خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 320

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء پھر صرف یہی بات نہیں بلکہ ہمیں ایک اور بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے اور وہ یہ کہ ہم اُس دور میں سے گزر رہے ہیں جس میں ہر نیا تغیر ہر وقت آ سکتا ہے پہلے یہ خیال کیا جاسکتا تھا کہ دس یا بیس سال کے بعد کوئی نیا تغیر ہوگا مگر اب وہ زمانہ نہیں اب کسی وقت بھی ایک نیا تغیر رونما ہو سکتا ہے اور اُس کے لئے ہماری جماعت کو پوری طرح تیار رہنا چاہیے فرض کرو پاکستان اور ہندوستان کی لڑائی ہو جائے اور ہم دھکیلے جائیں تو جماعت کو جو خطرہ پیش آسکتا ہے یا ترقی کے جو مواقع اُس کے لئے پیدا ہو سکتے ہیں وہ اتنے اہم ہیں کہ اُن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا خدانخواستہ ہندوستان یونین کی فوجیں ذرا بھی آگے بڑھیں تو ہمارے سارے اندازے بے حقیقت ہو کر رہ جائیں گے اور اگر ہندوستان کو شکست ہوئی اور پاکستان آگے بڑھا تو جو ذمہ داریاں ہم پر اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کرنے کے لئے عائد ہوں گی اُن کے لئے ہمیں لاکھوں روپیہ کی ضرورت ہوگی اگر ہم یہ روپیہ خرچ نہیں کریں گے تو ہم عظمت اور وقار کے حصول سے محروم رہ جائیں گے۔اس لئے ہمیں اس نئے بجٹ کو اس نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے جس طرح عام قائم دائم پرانے حالات کے ماتحت بجٹوں کو دیکھا جاتا ہے ہم ایک ایسے دور میں سے گزر رہے ہیں جو نہایت ہی نازک دور ہے اور اگلے سال دوخطروں میں سے ایک خطرہ ہمیں ضرور در پیش ہے یا تو ایک بہت بڑا نقصان ہمیں پہنچ جائے گا اور ہم اسلام اور احمدیت کو اُس کی عزت اور عظمت سے محروم کردیں گے اور یا ایک بہت بڑا فائدہ ہمارے سامنے آئے گا مگر ہم پھر بھی اسلام اور احمدیت کو اُس عزت سے محروم کر دیں گے ، اس لئے کہ ہم نے اپنا خزانہ خالی کر دیا ہوگا۔پھر قادیان کی حفاظت کا سوال ہے کئی ہیں جنہوں نے حفاظت مرکز کے چندہ میں کوتا ہی شروع کر دی ہے اور اس خیال سے کو تا ہی شروع کر دی ہے کہ اب مرکز تو کوئی رہا نہیں پھر ہم چندہ کیوں دیں یہ بے وقوفی کی بات ہے مرکز آسمان پر نہیں چلا گیا، مرکز دُنیا کے کسی گوشے میں چھپا نہیں دیا گیا، مرکز موجود ہے اور سینکڑوں لوگ اُس میں رہ رہے ہیں اور اُن کے سب اخراجات جماعت کے ہی ذمہ ہیں۔آخر بغیر کھانے پینے کے کوئی انسان کس طرح رہ سکتا ہے۔اُن لوگوں کی یہ حالت ہے کہ نہ اُن کی نوکری کی کوئی صورت ہے اور نہ اُن کی زراعت کی کوئی صورت ہے۔مکانوں پر حفاظت قادیان