خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 296
خطابات شوری جلد سوم ۲۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء وقار کوصرف اُس وقت خطرہ میں سمجھتا ہوں جب تبلیغ کے کام میں کوئی روک واقع ہو جائے اور اگر تبلیغ کے کام میں زیادہ سے زیادہ وسعت مد نظر ہو تو میں اس میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ اگر ہمیں کالج بند کرنا پڑے تو کالج کو بند کر دیا جائے اور اگر سکول بند کرنا پڑے تو سکول کو بند کر دیا جائے۔اگر تبلیغ کے کام میں زیادہ سے زیادہ روپیہ خرچ کرنے کے لئے ہمیں کسی وقت کالج اور سکول کو بھی بند کرنا پڑتا ہے تو مجھے اُن کے بند کرنے میں کوئی دریغ نہیں ہوگا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کون سے کالج ہوا کرتے تھے یا کون سے سکول تھے جن میں صحابہ تعلیم پاتے تھے ، وہ ان سامانوں کی عدم موجودگی میں بھی تبلیغ کرتے اور ویسے ہی جوش و خروش سے کام کرتے تھے جیسے ہم کام کرتے ہیں بلکہ ہم سے بھی بڑھ کر۔پس میں ان جذباتی اپیلوں پر کان رکھنے کے لئے ہر گز تیار نہیں کہ اگر سکول میں فلاں کمرہ نہ بنایا گیا تو ہماری ناک کٹ جائے گی یا فلاں عمارت اس وقت تیار نہ کی گئی تو سلسلہ کے وقار کو صدمہ پہنچے گا، یہ ساری چیزیں بیشک رُک جائیں ان کی کوئی پرواہ نہیں کی جاسکتی صرف ایک ہی چیز ہمارے مد نظر ہے اور رہے گی اور وہ یہ کہ سلسلہ کی تبلیغ اور سلسلہ کی تعلیم اور سلسلہ کی تربیت میں کوئی حرج واقع نہ ہو اور یہ کام پیہم اور مسلسل ہوتا چلا جائے۔پس اخراجات کے بارے میں جذباتی اپیلیں مجھے متاثر نہیں کر سکتیں میں صرف اس امر کو دیکھتا ہوں کہ ہم نے ایک بہت بڑا کام کرنا ہے اگر اس کے لئے ہمیں اپنے اخراجات بہت حد تک کم کرنے پڑیں تب بھی ہم ان کو کم کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔پس میں بجٹ اخراجات پر بعض قیود عائد کرنا چاہتا ہوں اور ان قیود کے ساتھ اس بجٹ کو منظور کرتا ہوں مگر یہ شرط ہو گی کہ اس بجٹ پر عمل درآمد اُس وقت ہو جب اس بجٹ کی آخری منظوری مجھ سے مل جائے۔صدرانجمن احمدیہ کو بجٹ کی آخری منظوری مجھ سے حاصل کرنی چاہیے۔اس کے بعد یہ بجٹ نئے سال کے لئے نافذ ہوگا۔ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ ایک شخص کا گزارہ جائیداد پر نہیں محض ایک رہائشی مکان ہے جو اُس نے وقف کیا ہوا ہے مگر ساتھ ہی اُس نے آمد بھی وقف کی ہوئی ہے وہ اس تحریک میں آیا وقف آمد کے حساب سے حصہ لے یا وقف جائیداد کے لحاظ سے؟ اس سوال کے بارہ میں اگر اخلاص کی حقیقی روح پوچھی جائے تو وہ یہ ہے کہ اگر