خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 291
خطابات شوری جلد سوم سب کچھ قربان ہوگا۔اس پر حضور نے فرمایا۔وو ۲۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ساری جائیدادوں کو قربان کرنے کا مطالبہ ہوگا تو انسان کو کپڑے جھاڑ کر ایک طرف ہو جانا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کا مال اُس کے سپرد کر دینا چاہیے۔بلکہ میرے نزدیک تو کپڑے جھاڑ کر بھی نہیں بلکہ کپڑے اُتا رکر ایک طرف ہو جانا چاہیے ہمیں حقیقی مسرت تبھی حاصل ہو سکتی ہے جب کہ ہماری جماعت کی اکثریت میں یہ روح کام کرنے لگ جائے۔ہماری جماعت میں سے صرف چند آدمیوں کا قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب نہیں کر سکتا اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہر شخص قربانی کرنے کے لئے تیار ہو۔یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کمی نہیں صرف ہمارا نخل ہی ہے جو ہمیں اُس کے فضلوں سے محروم کرتا ہے پس جماعت کو چاہیے کہ بحیثیت جماعت قربانی کرے اور جماعت کے تمام افراد میں قربانی کی روح کام کرتی نظر آئے۔چند افراد تو عیسائیوں میں بھی ایسے پائے جاتے ہیں جو اپنے دین کے لئے قربانیاں کرتے ہیں مومن جماعت اور غیر مومن جماعتوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ مومن جماعت کے تمام افراد میں اخلاص اور ایثار کا جذبہ موجزن ہوتا ہے اور اُس کے مقابل پر غیر مومن جماعتوں میں سے صرف چند افراد قربانی کرنے والے نظر آتے ہیں پس دوسو یا چارسو آدمیوں کا قربانی کرنا نجات کا موجب نہیں بن سکتا۔یہ اخلاص تب ہی نجات کا موجب بن سکتا ہے جب کہ آپ اپنی جماعتوں سے یہ کہلوالیں کہ ہماری جائیدادیں سلسلہ کے لئے وقف ہیں اور ہم مرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔یہ قربانی ہے جو شاندار نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ایک استفسار پر حضور نے فرمایا:۔وقف جائیداد کے وعدے لکھوانے کی مہلت پنجاب والوں کے لئے ڈیڑھ ماہ ہے 66 اور پنجاب سے باہر والوں کے لئے دو ماہ اور غیر ممالک والوں کے لئے تین ماہ ہے۔“