خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 290

خطابات شوری جلد سوم ۲۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء مدد ملے گی اور چالیس پچاس ہزار روپیہ بھی سلسلہ کو سالا نہ مل جائے گا۔اس وقت زندگی اور موت کا سوال ہے اس وقت غفلت کرنا موت سے کم نہیں ان رقموں کی فراہمی کے لئے گل مدت چھ ماہ ہوگی جن لوگوں نے جائیداد میں وقف کی ہیں وہ چھ ماہ کے اندر اپنا حصہ ادا کر دیں اور جن لوگوں نے آمد نیاں وقف کی ہیں وہ چھ ماہ کے اندر ایک ایک ماہ کی آمد بھجوا دیں۔جو اس وقف میں شامل نہیں ہونا چاہتے اُن سے جائیداد کی قیمت کا ۱/۲ فیصدی یا نصف ماہ کی آمد وصول کی جائے اور جو شخص بالکل شامل نہیں ہوگا و مخلصین کی صف میں سے نکل جائے گا۔اگر کسی کو کوئی حقیقی موانع ہو تو اُسے اپنی وجوہات پیش کرنی چاہئیں اور ہم سے منظوری لینی چاہیے لیکن اگر کوئی شخص بلا وجہ شامل نہیں ہوگا تو ہم اُسے آئندہ ایسی تحریکوں میں شامل نہیں کریں گے قرآن کریم بھی ایسے لوگوں کے متعلق یہی فرماتا ہے کہ تم ہمارے ساتھ جہاد میں مت شامل ہو ہم تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے اسی طرح اگر کوئی شخص بخل سے کام لیتے ہوئے ان تحریکوں میں شامل نہیں ہوگا تو آئندہ ہم اسے کہہ دیں گے کہ تم اپنے ناپاک مال کو لے جاؤ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ہم اس کا بائیکاٹ نہیں کریں گے لیکن اس کو آئندہ ایسی تحریکوں میں شامل نہیں کریں گے۔باقی رہا یہ سوال کہ اگر جماعت باوجود اپنی کوشش کے اس رقم کو پورا نہ کر سکے تو پھر کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ میری کوٹھی دارالحمد جس کی قیمت پانچ لاکھ روپیہ بنتی ہے اُس کو بیچ لیا جائے اور اس سے یہ رقم پوری کر لی جائے۔کوٹھی کے ساتھ سو کنال زمین ہے اور وہاں موجودہ قیمت پانچ ہزار روپیہ فی کنال ہے اس طرح وہ پانچ لاکھ روپے کی بنتی ہے جماعت کی کوشش کے بعد جو کمی رہ جائے وہ بے شک اس سے پوری کر لی جائے ایسی صورت میں میں ہر احمدی سے یہی کہوں گا کہ وہ میری زمین خریدے اور یہ رقم پوری کردے۔“ اپنے پیارے آقا کی قربانی کا یہ فقید المثال جذ بہ دیکھ کر ہر مومن نے یہی سمجھا کہ جس طرح اپنے پیارے امام کے مقابلہ میں ہماری جانوں کی کوئی قیمت نہیں اسی طرح اُس کی جائیداد کے مقابلہ میں ہماری جائیدادوں کی کوئی حیثیت نہیں ہر طرف سے اس قسم کی صدائیں آنے لگیں یہ نہیں ہوگا بلکہ پہلے ہماری جائیدادیں فروخت ہوں گی پہلے ہمار