خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 277

خطابات شوری جلد سوم ۲۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء اپنی ماہوار آمد کا پچاس فیصدی بطور چندہ خاص ان ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے دے۔اب جو بجٹ آپ لوگوں نے آمد کا منظور کیا ہے وہ ۶۲۳۵۹۸ اروپے کا ہے اس آمد میں غیر معمولی چندہ ۳۸۰۰۰۰ روپے سے کچھ اوپر ہے۔پچاس فیصدی زیادتی کرنے سے ۳۸۰۰۰۰ روپے آمد ہوگی۔یہ بات بھی یا درکھنے کے قابل ہے کہ چندہ کالج کے لئے متواتر زور لگانے کے باوجود اس وقت تک گل ۷۷۰۰۰روپے کی آمد ہوئی ہے میں بطور فخر نہیں بلکہ اظہارِ حقیقت کے لئے بتانا چاہتا ہوں کہ اس میں ۱۰۰۰۰ روپیہ چندہ صرف میری طرف سے ہے گویا ساری جماعت کا چندہ مجھ اکیلے سے چھ گنا ہے۔اس وقت ہمارے سامنے سب سے بڑی اور ضروری چیز یہ ہے کہ ہم حفاظت مرکز کے لئے بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کریں۔اس وقت تک اس مد میں گل ۴۴۰۰۰ روپے کی رقم آئی ہے اوّل تو اس کے لئے ایک لاکھ پچہتر ہزار روپے کا جو اندازہ لگایا گیا ہے وہ میرے نزدیک بالکل نا کافی ہے اس کے لئے کم از کم پانچ لاکھ روپیہ درکار ہے لیکن اس وقت تک گل آمدن ۴۴۰۰۰ روپے ہوئی ہے اور اگر سال یا ڈیڑھ سال تک زور لگانے کے بعد ۱۷۵۰۰۰ روپیہ وصول بھی ہو گیا تو کیا ہوا کیونکہ یہ رقم اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکتی اس مد میں گل ۴۴۰۰۰ روپے کی رقم کا آنا بتا تا ہے کہ یا تو جماعت میں تھکاوٹ پیدا ہوگئی ہے یا اس تحریک کو صحیح طور پر لوگوں تک پہنچایا نہیں گیا اور لوگوں پر اس کی اہمیت واضح نہیں کی گئی۔میرے نزدیک یہ سوال کہ یہ رقم کس طرح پوری کی جائے کوئی خاص تجویز چاہتا ہے اور اُس کے لئے کوئی ایسی صورت ہونی چاہیے جو تجربہ کامیاب ہو۔اب مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع ہوں گی نمازوں کے بعد پھر اجلاس ہوگا دوست یہاں سے جا کر اپنے اپنے ذہن میں اس کے متعلق تجاویز سوچیں اور مغرب وعشاء کی نماز کے بعد جو اجلاس ہو اُس میں بتائیں کہ یہ رقم کس طرح 66 جمع کی جائے۔“ اس کے بعد حضور مغرب و عشاء کی نمازوں کے لئے مسجد نور میں تشریف لے گئے۔نمازوں کے بعد جب تیسرا اجلاس شروع ہوا تو حضور نے فرمایا:۔چونکہ صورت حال اس سے بہت زیادہ خطرناک ہے جو ہم نے پہلے سمجھی تھی اس لئے اب اندازہ لگایا گیا ہے کہ حفاظت مرکز کے لئے کم از کم پانچ لاکھ روپیہ کی ضرورت