خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 276

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء مگر اب جب کہ پیاسوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ہمیں بھی ان کی پیاس بجھانے کے زیادہ سامان کرنے چاہئیں۔اس میں شبہ نہیں کہ ہماری جماعت نے اس کام کو سرانجام دینے کے لئے بہت زیادہ قربانیوں سے کام لیا ہے ایسی قربانیوں سے کہ موجودہ زمانہ میں اُن کی مثال ملنی مشکل ہے مگر جوں جوں ہم نئے علاقوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں ہمارا کام بھی بڑھتا جا رہا ہے اور ہماری ذمہ داریاں بھی بیش از پیش ہیں۔اگر ہم یہ سمجھ کر کہ ہم نے کافی قربانیاں کرلی ہیں تھک کر بیٹھ جائیں تو یہ جوانمردی کے خلاف ہوگا جوانمردی اس کا نام نہیں کہ ایک کام کو ادھورا چھوڑ دیا جائے بلکہ جوانمر داور جواں ہمت وہ شخص ہے جو اپنے عہد کو مرتے دم تک نبھائے۔- احمد یہ دار التبلیغ کشمیر کے لئے ۲۵ روپیہ ماہوار کی بجائے ۱۰۰ روپیہ ماہوار کیوں کر دیا گیا ہے حالانکہ وہاں ہر چیز سستی مل سکتی ہے یہ رقم کم ہونی چاہیے۔ے۔کولمبو میں دار التبلیغ کے لئے ۱۵۰۰ روپیہ کی رقم رکھی گئی ہے حالانکہ وہاں کوئی مبلغ نہیں یہ رقم بھی کم ہونی چاہیے۔۸ تعلیم و تربیت کا سفر خرچ بھی بہت زیادہ رکھا گیا ہے اس کو بھی کم کرنا چاہیے۔یہ بعض اخراجات جن کے متعلق میں نے توجہ دلائی ہے ایسے ہیں جو ضرور کم ہونے چاہئیں اور جو تمہیں بلا ضرورت ہیں وہ اُڑا دینی چاہئیں۔اب میں جماعت کے سامنے سب کمیٹی کا تجویز کردہ بجٹ آمد پیش کرتا ہوں جو دوست اس کے حق میں ہوں کہ سب کمیٹی کا تجویز کردہ بجٹ منظور کیا جائے۔وہ کھڑے ہو جائیں“ اس پر ۳۳۰ نمائندگان کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :۔۳۳۰ دوستوں کی رائے ہے کہ اس بجٹ کو منظور کیا جائے میں اس کے متعلق اپنی 66 رائے محفوظ رکھتا ہوں۔“ پھر فرمایا:۔بجٹ آمد ” اب آمد کے متعلق دوست سوچ لیں کیونکہ اخراجات کا جو بجٹ منظور کیا گیا ہے وہ آمد سے زیادہ ہے اس کے متعلق سب کمیٹی کی رائے یہ ہے کہ ہر احمدی