خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 269
خطابات شوری جلد سوم ۲۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء نہ ہوں گے اس لئے طبعاً ان کو انگریزی سے چنداں دلچسپی نہ ہوگی اور وہ انگریزی میں گفتگو کرنا پسند نہیں کریں گے بلکہ وہ لوگ بھی جنہوں نے انگریز کی غلامی کی وجہ سے انگریزی کو اپنا یا ہو ا تھا اور ملکی زبان سے نفرت رکھتے تھے اس کو چھوڑنے کی کوشش کریں گے اب تک تو یہ حال تھا کہ ہر شخص اپنے روز مرہ کے مشاہدہ سے یہ جان چکا تھا کہ انگریز کے بنگلہ پر پہنچ کر لوگ سلام کرتے ہیں اس لئے قدرتی طور پر ہر شخص اس سے متاثر ہوتا تھا۔لیکن جب انگریز چلے گئے تو لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ اب ہم کیوں انگریزی بولیں لوگ چاہیں گے کہ ہم جس زبان کو ہر روز اور ہر وقت اپنے گھروں میں بولتے ہیں اُسی کو استعمال میں لائیں۔پھر یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ جب تک ہندوستان کے اندر ہندوستانیوں کی مادری زبان رائج نہیں ہو جاتی ہمارا ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا اگر اس وقت تک ہندوستانیوں نے انگریزی کو اپنائے رکھا تو اُن کا یہ فعل بعض اغراض کے ماتحت تھا اور اس زبان کو اب تک اس لئے بھی برتری اور فوقیت حاصل رہی کہ یہ حاکموں کی زبان تھی اور ہر قسم کے لوگ انگریزوں کی نقل میں ہی اپنے لئے فخر محسوس کرتے تھے۔اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے ہندوستانیوں کے لئے ایک بہت بڑا فائدہ مقدر کر رکھا تھا اور وہ فائدہ وابستہ تھا انگریزی زبان کے ساتھ۔جب تک ہندوستانی انگریزی زبان نہ سیکھتے وہ اس فائدہ سے محروم رہتے وہ فائدہ یہ تھا کہ ہم نے فلسفہ، سائنس اور حساب وغیرہ کے علوم جدیدہ اس قوم سے سیکھنے تھے اور یہ علوم صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتے تھے کہ ہم انگریزی زبان کو سیکھتے اب جب کہ ہم وہ فوائد حاصل کر چکے ہیں ہمارے لئے انگریزی کی اعلیٰ تعلیم کچھ زیادہ مفید نہیں رہی اور جب انگریز ہندوستان سے چلے جائیں گے اُس وقت انگریزی زبان کی کچھ بھی اہمیت نہیں رہ جائے گی بہر حال ہندوستان کی آئندہ زبان کوئی اور ہو گی خواہ وہ اُردو ہو یا کوئی اور۔تعلیم کے اخراجات کم کر کے تبلیغ پر زور دیں میں نے اندازہ لگایا ہے کہ اس وقت ہماری تعلیم پر بہت زیادہ اخراجات ہورہے ہیں اتنے زیادہ کہ اس کے مقابلہ میں تبلیغ کے اخراجات بھی کم ہیں تعلیم کے اخراجات کا یہ غیر معمولی بوجھ ایسا ہے جو تبلیغ میں كَمَا حَقُّہ کامیابی حاصل کرنے کے