خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 268
خطابات شوری جلد سوم ۲۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء سرانجام دیتے رہتے ہیں اور خواہ ان کو کرسیوں اور میزوں کی بجائے کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چٹائیاں ہی اپنے استعمال میں لانی پڑیں وہ اپنے مقاصد اور عزائم کے پیش نظر ان پر بیٹھ کر کام کرنے میں کوئی ہتک محسوس نہیں کرتے۔ناظر صاحب جو میرا نام لے کر جامعہ نصرت کے لئے لوگوں کے سامنے چندہ کی اپیل کرتے ہیں جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے اُنہوں نے اس سے پہلے بھی کئی دفعہ جامعہ کے نام پر مجھ سے روپیہ لیا ہے مگر وہ روپیہ ہمیشہ دوسرے کا موں پر صرف کر دیا گیا اور جامعہ جیسا تھا ویسے کا ویسا ہی رہا چونکہ ناظر صاحب کو معلوم ہے کہ مجھے جامعہ نصرت سے محبت ہے اور جامعہ نصرت کے نام پر روپیہ مانگنے پر ہمیں ضرور کچھ نہ کچھ مل جائے گا اس لئے جامعہ نصرت کا نام لے کر مجھ سے مانگنا شروع کر دیتے ہیں مگر روپیہ اپنی محبوبہ پر خرچ کر لیتے ہیں اور میری محبوبہ پھر ویسی کی ویسی بیٹھی رہتی ہے۔روپیہ وصول کرنے کا یہ اچھا ڈھنگ اِن کو ہاتھ آیا ہے جب ضرورت ہوئی جامعہ نصرت کو پیش کر دیا اور جب روپیہ ہاتھ آ گیا تو جامعہ بے چاری دور سے دیکھتی رہ گئی۔میرے نزدیک مغربی تعلیم عورتوں کے لئے کچھ بھی ضروری نہیں اور اس پر روپیہ خرچ کرنا اسے ضائع کرنے کے مترادف ہے۔مردوں کے متعلق تو کہا جاسکتا ہے کہ اُنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملازمتوں میں جانا ہوتا ہے اور پھر ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان کثرت کے ساتھ اپنی زندگیاں دین کے لئے وقف کرتے ہیں اور ان کی اعلیٰ تعلیم سلسلہ کے لئے مفید ثابت ہوتی ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم کے بغیر غیرممالک میں تبلیغ نہیں ہو سکتی اس لئے مردانہ سکولوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے ہمیں اگر غیر معمولی اخراجات بھی برداشت کرنے پڑیں تو ہم کرتے ہیں لیکن زنانہ سکولوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے غیر معمولی اخراجات برداشت کرنے میں ہمیں ضرور انقباض محسوس ہوتا ہے۔کیونکہ ہمارے یہ اخراجات سلسلہ کے لئے کچھ زیادہ مفید نہیں ہو سکتے۔اب جیسا کہ برطانیہ کی طرف سے اعلان ہو چکا ہے انگریز ہندوستان سے جارہے ہیں اس لئے انگریزی زبان کی وہ قیمت اور وقعت یہاں نہیں رہے گی جو اس سے پہلے تھی۔بے شک موجودہ نسل کے لوگ جنہوں نے انگریزوں کی ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ تعلیمات حاصل کی تھیں انگریزی بولنے کے عادی رہیں گے لیکن آنے والی نسل کے وقت چونکہ انگریز