خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 260

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ناظر صاحب اعلیٰ کو توجہ دلا رہا ہوں کہ الفضل کے اندر بد دیانتی اور دھوکا بازی ہو رہی ہے لیکن کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی میں دیکھتا ہوں کہ صدر انجمن احمد یہ ہمیشہ لحاظ داری سے کام لیتی ہے اور جب بھی بعض مجرموں کو پکڑا جاتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ غلطی ہوگئی آئندہ احتیاط کی جائے گی۔اس طرح بجائے اس کے کہ اُن کی غلطی کی انہیں سزا دی جائے اور آئندہ کے لئے اس قسم کی غلطیوں کا سدِ باب کیا جائے اُنہیں صرف اتنا کہنے پر کہ غلطی ہوگئی ، چھوڑ دیا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غلطی جو سزا کے بغیر معاف کر دی جاتی ہے بڑھتی ہے اور غلطی کرنے والا اور بھی زیادہ دلیر ہو جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں غلطی کروں گا تو میرے صرف اتنا کہہ دینے پر کہ غلطی ہوگئی میری گلو خلاصی ہو جائے گی۔اگر ایسے آدمیوں کو سزادی جائے تو اس قسم کی غلطیاں ہمیشہ کے لئے رک سکتی ہیں لیکن صدر انجمن احمدیہ نے اس قسم کے مجرموں کو بغیر سزا کے چھوڑ چھوڑ کر دلیر بنا دیا ہے اور غلطیاں کرنے والے دن بدن بڑھ رہے ہیں۔گزشتہ سال سفر سندھ پر جب میرے ساتھ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب گئے تو میں نے ان کی غلطیوں کی ایک لمبی فہرست تیار کی اور پھر وہ فہرست صدر انجمن احمد یہ میں بھجوا دی تا کہ آئندہ اس قسم کی غلطیاں نہ ہوں۔قربانیاں کرنے والوں کا ذکر اس دفعہ جب پھر سفر سندھ کا موقع آیا تو مجھے یقین دلایا گیا کہ اس دفعہ نہایت اچھا انتظام کیا گیا ہے مگر میں نے دیکھا کہ سارے سفر میں پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے کسی ایک سٹیشن پر بھی مجھ سے دوستوں کی ملاقات نہیں کرائی صرف پہرہ دار ہرسٹیشن پر میرے پاس پہنچ جاتے اور گاڑی کا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے بتاتے کہ فلاں فلاں دوست یا فلاں فلاں جماعتیں ملنے کے لئے آئی ہوئی ہیں اس کے متعلق جب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے آگے سے وہی جواب دیا جو ایک نوکر نے اپنے آقا کو دیا تھا کہ :- دیکھئے سرکار اس میں شرط یہ لکھی نہیں اس سفر میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو سو سو میل پیدل سفر کر کے صرف ملاقات کے لئے بعض سٹیشنوں پر آئے ہوئے تھے ایسے مخلص لوگوں کے نام اخبار میں آنے چاہئیے تھے