خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 259
خطابات شوری جلد سوم ۲۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء تمام تخمینہ جات بجٹ آمد سے اتفاق ظاہر کیا تھا البتہ آمد جلسہ سالانہ کے متعلق سب کمیٹی کی یہ رائے تھی کہ جلسہ سالانہ کا تخمینہ آمد بروئے بجٹ ۸۳۵۳۹ روپیہ ہے اور یہی منظور ہونا چاہیے۔حضور نے فرمایا:۔اصل آمد اس مد کی گل ۴۵۰۰۰ روپیہ ہے پچھلے سال اس مد کی آمد ۴۳۸۳۷ روپیہ تھی یعنی پچھلے سال عملاً ۴۴۰۰۰ روپیہ کی آمد ہوئی اور اس سال ۴۵۰۰۰ روپیہ کی آمد ہوئی ہے اب اگر کچھ اور وصولی بھی ہوگئی تو ۴۶۰۰۰ روپیہ ہو جائے گی اس لئے جہاں تک عمل کا سوال ہے ساٹھ ہزار کی رقم بھی اس مد میں پوری ہوتی نظر نہیں آتی لیکن سب کمیٹی کی رائے میں بجائے ساٹھ ہزار کے ۸۳۵۳۹ روپیہ پورا وصول ہونا لازمی ہے اس کے علاوہ سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ الفضل نے اپنے حسابات کی کوئی تفصیل پیش نہیں کی اور نہ ہی الفضل کا کوئی نمائندہ موجود تھا جس سے معلوم ہو سکے کہ آمد کیا ہوئی اور خرچ کیا ہؤا اور کن کن مدات میں ہو ا صرف ۲۷۰۰۰ روپیہ کی رقم مہم طور پر دکھائی گئی ہے جس کے ساتھ کوئی تفصیل نہیں اور ساتھ ہی ۶۶۰۰ روپیہ بقایا بھی قابل وصول دکھایا گیا ہے۔اگر یہ رقم بھی ملا لی جائے تو ۳۳۶۰۰ روپیہ بن جاتی ہے۔سب کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ الفضل نے گزشتہ سال (سال رواں) اپنے بجٹ میں ۱۵۱۷۶ روپیہ ریز رو فنڈ بھی دکھایا تھا لیکن اس کے برعکس اس نے ۶۵۰۰ روپیہ قرضہ اپنے ضروری اخراجات کے لئے اُٹھایا ہے۔اسی طرح ریویو آف ریلیجنز انگریزی اور اردو اور بک ڈپو کی بھی کوئی تفصیل پیش نہیں کی گئی بک ڈپو کا حساب اتنا چھوٹا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا بجٹ اتنا خفیف اور اتنا ضعیف ہے کہ اسے دیکھ کر شرم محسوس ہوتی ہے یہی حال ریویو اردو اور ریویو انگریزی کا ہے ریویو اردو کی آمد ۲۲۷ روپیہ ہے اور ریویو انگریزی کی آمد ۳۰۰ روپیہ اور اس ۵۲۷ روپیہ کی وصولی کے لئے دو کلرک رکھے گئے ہیں حالانکہ اتنی چھوٹی سی رقم میرے خیال میں ایک دفتر ی بھی وصول کر سکتا ہے۔صدرانجمن احمدیہ سے اظہار ناراضگی الفضل کے حسابات میں بھی سخت گڑ بڑ ہے اور اُسے دیکھتے ہوئے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو عملہ نے بددیانتی سے کام لیا ہے اور یا وصولی میں کوئی نقص ہے میں برا بر دو سال سے