خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 249

خطابات شوری جلد سوم ۲۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء اس قسم کا ہو، زیور اتنا ہو، میں اس بے حیائی کو دیر سے روکتا آرہا ہوں لیکن جماعت میں برابر یہ شرائط چلتی آرہی ہیں۔ان شرائط سے تنگ آکر میں یہ اعلان کر چکا ہوں کہ میں کوئی ایسا نکاح نہیں پڑھوں گا جس میں شرائط لگائی گئی ہوں۔اگر باقی جماعت میں بھی یہ احساس پیدا ہو جائے تو یہ بدرسوم بہت جلد دور ہو جائیں۔اگر تمہیں یہ معلوم ہو جائے کہ لڑکے والوں نے یالڑکی والوں نے کوئی مطالبہ کیا ہے تو تم کہہ دو کہ ہم نکاح میں شامل نہیں ہونگے۔مجھے افسوس ہے کہ جماعت نے میری طرف دیکھ کر بھی ان رسوم کو دور کرنے کے لئے پوری کوشش نہیں کی۔یاد رکھو جب تک تم ان رسوم کو دور نہیں کرتے اُس وقت تک تمہاری شادیوں میں محبت کی روح پیدا نہیں ہو سکتی اور اُس وقت تک تم دنیا کے سامنے نیک نمونہ پیش نہیں کر سکتے۔اگر لڑکی والے لڑکے والوں کو مجبور کرتے ہیں کہ دس ہزار مہر ہو ، بندے اور گلے کا ہار ضرور ہو اور اتنے جوڑے کپڑے ضرور ہوں تو میرے نز دیک وہ سودا کرتے ہیں گویا وہ ایک گھوڑا یا گائے ہے جس کا سودا کیا جارہا ہے اور جب سو دا ہو جائے تو خریدنے والے کو حق ہوتا ہے کہ جیسا چاہے اس سے سلوک کرے۔جو شخص بکرے کا سودا کرتا ہے اُسے بکرا ذبح کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔گویا اس قسم کے سو دے کر کے تم ظلم و تعدی کو روا رکھتے ہو۔پھر بعض علاقوں میں لڑکی والوں سے پوچھا جاتا ہے کہ ساتھ کیا دو گے اور بعض خاوند بھی ایسے گر جاتے ہیں کہ وہ بیوی سے کہہ دیتے ہیں کہ تو لائی کیا تھی؟ گویا ان کے نزدیک کپڑا اور زیور انسان سے زیادہ قیمتی ہیں۔جو مرد اس قسم کے مطالبات کرتے ہیں وہ بے حیائی اور بے شرمی کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو عورتیں ناجائز مطالبات منواتی ہیں وہ بھی بے حیائی کی مرتکب ہوئی ہیں۔ہماری جماعت کو اس قسم کے گندوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنی شادیوں کی بنیاد میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر رکھنی چاہئیں اور سادگی اور محبت کو مد نظر رکھنا چاہیے۔اگر کسی جگہ اس قسم کے مطالبات پیش ہوں تو جماعت کے مخلصین کا فرض ہے کہ وہ اس شادی میں شامل نہ ہوں۔خواہ ان کے بھائی یا بہن کی ہی شادی کیوں نہ ہو۔اگر پختہ ایمانوں والے لوگ اس قسم کا اظہار نفرت کریں تو باقی لوگ بھی بچنے کی کوشش کریں گے۔موجودہ شادیوں میں یہ مرض