خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 231

خطابات شوری جلد سوم ۲۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء طاقت اور شوکت عطا فرمائی صرف چند افراد احمدی کہلانے والے تھے جو بسا اوقات اپنی کمزوری اور ناتوانی کی وجہ سے ادنیٰ سے ادنی تکلیف کو بھی انتہا درجہ کی بلا اور مصیبت سمجھتے تھے۔مجھے یاد ہے میاں صدر الدین صاحب جو ابتداء میں گدھوں پر مٹی لاد کر بھرتی ڈالا کرتے تھے اور جنہوں نے بعد میں آٹے کی تجارت شروع کر دی اُن کے متعلق ایک دفعہ اطلاع ملی کہ وہ بازار میں سے گزر رہے تھے کہ کسی مخالف نے کوئی شرارت کی۔میں نے اُن کو بلایا اور چاہا کہ اگر یہ اطلاع درست ہو تو اُس شرارت کا تدارک کیا جائے۔جب وہ آئے اور میں نے اُن سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو اُنہوں نے سمجھا کہ شاید میں یہ سُن کر ڈر گیا ہوں کہ اب لوگ ہماری مخالفت کرنے لگ گئے ہیں اور اُنہوں نے بجائے میرے سوال کا جواب دینے کے مجھے تسلی دینی شروع کر دی اور کہنے لگے بے شک ایک شخص نے کچھ شرارت کی تھی مگر یہ مصیبت اُن مصیبتوں کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتی ہے جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں برداشت کی ہیں۔جب اُنہوں نے یہ بات کی تو قدرتی طور پر میری توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ میں بھی سنوں کہ وہ کیا مشکلات تھیں جو اُن کو پیش آئیں اور میں نے اُن سے کہا مجھے بھی اُس زمانہ کا کوئی واقعہ سنا ئیں۔وہ کہنے لگے ایک دفعہ میں ڈھاب میں سے مٹی کھودرہا تھا کہ کسی نے مرزا نظام الدین صاحب کو جا کر اطلاع دے دی کہ ڈھاب میں سے مٹی کھودی جارہی ہے۔مرزا نظام الدین صاحب بڑے جوش کی حالت میں وہاں پہنچ گئے۔میں نے اُنہیں دیکھا تو ایک زاویہ جو مٹی کھودنے کی وجہ سے ڈھاب میں بن چکا تھا اُس کے پیچھے چھپ گیا اور میں نے کہا اے خدا! جیسے تیرے رسول پر غار ثور میں ایک مصیبت کا وقت آیا تھا وہی مصیبت کا وقت اب مجھ پر آگیا ہے تو میری حفاظت فرما اور مجھے اس تکلیف سے نجات دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری ایسی حفاظت فرمائی کہ مرزا نظام الدین صاحب اندھے ہو گئے انہیں نظر ہی نہ آیا۔وہ گالیاں دیتے ہوئے واپس چلے گئے اور میں خدا کا شکر کرتے ہوئے باہر نکل آیا۔اب دیکھو یہ کتنی چھوٹی سی چیز تھی جو اپنے زمانہ کے لحاظ سے انہیں بڑی نظر آئی اتنی بڑی کہ مرزا نظام الدین صاحب کے ایک دو تھپڑوں کو اُنہوں نے غار ثور کے واقعہ کے مشابہ قرار دیا۔مگر یہ حالت کیوں پیدا ہوئی ؟ اس لئے کہ قادیان میں احمدیوں کی حیثیت اتنی حقیر سمجھی جاتی تھی کہ ہر شخص