خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 230
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء کہ ہمارے دل میں ایک غیر معمولی عزم، غیر معمولی بلندی اور غیر معمولی علو ہمتی پیدا ہو چکی ہے۔دن گزرتے چلے جاتے ہیں اور جو وقت منزلِ مقصود تک پہنچنے کا ہمارے لئے مقرر کیا گیا ہے وہ روز بروز چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔ہماری ذمہ داریاں پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں اور ہماری مشکلات بھی زیادہ سے زیادہ بڑھتی چلی جارہی ہیں کیونکہ جوں جوں ہماری جماعت مختلف جہات اور مختلف اطراف میں پھیل رہی ہے اور جوں جوں مختلف اقوام اور مختلف ممالک اور مختلف حکومتوں سے اُس کا تعلق بڑھ رہا ہے ہمارے دشمن بھی نئے سے نئے پیدا ہور ہے ہیں اور نئی سے نئی مشکلات ہیں جو ہمارے لئے رونما ہورہی ہیں۔ان حالات میں جس قسم کی قربانی، جس قسم کی فدائیت اور جس قسم کا ایثار ضروری ہے وہ ابھی ہم میں پیدا نہیں ہوا۔لیکن اس کا پیدا کرنا ضروری ہے جلد یا بدیر ہمیں اس راستہ پر چلنا پڑے گا۔یہ وادی سخت پُر خار ہے مگر کانٹوں پر چلے بغیر ہم اپنی منزلِ مقصود کو کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔ہم جتنی جلدی اپنے اندر قربانی اور ایثار کی روح پیدا کریں گے ہم جتنی جلدی اپنے اندر فدائیت کا رنگ رونما کریں گے اُتنی ہی جلدی ہماری مشکلات دور ہونگی اور اتنی ہی جلدی اسلام اور احمدیت کو ترقی حاصل ہوگی۔اپنے دلوں اور فکروں میں تبدیلی پیدا کریں۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے دلوں میں تبدیلی پیدا کریں ، زیادہ سے زیادہ اپنے فکروں میں تبدیلی پیدا کریں ، زیادہ سے زیادہ اپنے ارادوں میں تبدیلی پیدا کریں۔اسی طرح اپنے اردگرد بیٹھنے والوں اور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ارادوں اور اُن کے حوصلوں اور اُمنگوں میں بھی تبدیلی پیدا کریں بغیر اپنے حوصلوں کو بڑھانے اور اپنے ارادوں میں حیرت انگیز تبدیلی پیدا کرنے کے تم وہ کام ہرگز نہیں کر سکتے جو تمہارے سپرد کیا گیا ہے۔ایک کے بعد ایک کر کے وہ لوگ جو اس اسلامی عمارت کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے اس دنیا سے گزرتے چلے جار ہے ہیں اور اُن کی جگہ وہ لوگ آرہے ہیں جنہوں نے ابتدائی زمانہ کی ایمانی لذت حاصل نہیں کی۔وہ زمانہ جب کہ احمدیت کا نام لینے والا دنیا میں بہت کم ،شاذ و نادر کے طور پر کوئی شخص نظر آتا تھا اور جبکہ قادیان میں، اُس قادیان میں جس میں خدا نے ہمیں بعد میں غیر معمولی