خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 200

خطابات شوری جلد سوم رت ۱۹۴۶ء وزیر اعظم شیعہ تھا اسے یہ خبر سن کر سخت دکھ ہوگا اور اس نے ہلا کو خاں کو لکھا کہ آپ بغداد پر حملہ کریں، ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔چنانچہ ہلاکو خاں نے حملہ کر دیا اور ایسی خطرناک جنگ ہوئی کہ ۱۸ لاکھ مسلمان ایک ہفتہ کے اندر اندر بغداد میں مارا گیا۔اب دیکھو بغداد پر کتنی بڑی تباہی آئی مگر بات کیا تھی۔بات صرف اتنی تھی کہ دو آدمیوں نے کہا کہ ہم نے کباب کھانے ہیں، آؤ کوئی ایسی تدبیر کریں جس سے ہم مفت کباب کھا سکیں۔تو بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جن سے دلوں میں بغض پیدا ہوتا ہے اور وہ بغض پھر خاندانوں میں سرایت کر جاتا ہے۔خاندانوں کا بغض محلوں میں ،محلوں کا بغض شہروں میں، شہروں کا بغض علاقوں میں اور علاقوں کا بغض ساری دُنیا میں پھیل جاتا ہے اور کروڑوں کروڑ لوگ اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔یہ حالت اپنی ابتدائی شکل میں اس قدر غیر محسوس ہوتی ہے کہ بعض دفعہ کام کرنے والا بھی نہیں جانتا کہ میری اس حرکت کا کیا نتیجہ نکلے گا۔وہ ایک بات کو معمولی سمجھ کر کر بیٹھتا ہے مگر اس کا نتیجہ نہایت خطرناک نکلتا ہے۔صراط مستقیم کی دعا اس مشکل سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انسان پانچوں وقت گڑ گڑا گڑ گڑا کر اور عاجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ۔دعائیں کرتا رہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - الہی ! میرا ہر قدم ایسا ہو سکتا ہے کہ میں ابلیس کا قائمقام بن جاؤں لیکن تیرے فضل سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں دُنیا میں ابلیس کی جڑیں کاٹنے میں کامیاب ہو جاؤں اور ابلیسی حکومت کو دُنیا سے حرف غلط کی طرح مٹا دوں۔الہی ! جب دونوں امکانات موجود ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ میں بادشاہی کے تخت پر بیٹھ کر ہی لوگوں کے لئے فتنہ کا موجب بنوں جیسے وہ دو بدمعاش جنہوں نے مفت کباب کھانے کا ارادہ کیا تھا حکومت میں کوئی دخل نہیں رکھتے تھے بلکہ نہایت ہی ذلیل اور اوباش انسان تھے لیکن باوجود اس کے کہ وہ حد درجہ کے ذلیل انسان تھے اُن کے فعل کی وجہ سے ایک اسلامی حکومت تباہ ہوگئی تو ضروری نہیں کہ کوئی بڑا انسان ہی ہو۔تو اُس سے فتنہ پیدا ہو سکتا ہے بعض دفعہ چھوٹے چھوٹے انسانوں کی حرکت سے بھی بڑے بڑے خطرناک فسادات پیدا ہو جاتے ہیں پھر وہ فتنے اور بڑے فتنے پیدا کرتے ہیں اور وہ بڑے فتنے پہلے سے بھی زیادہ بڑے فتنوں میں دُنیا کو مبتلا کر دیتے ہیں۔