خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 188
خطابات شوری جلد سوم ۱۸۸ ت ١٩٤٦ء جماعتی کاموں کے اصول کام ہمیشہ محبت اور پیار سے چلنے چاہئیں اور انسان کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ صحیح رویہ یہی ہے کہ تعاون سے کام کیا جائے اور اگر ایسا نہ ہو تو بجائے حد بندیوں کے اس انتظام کو تبدیل کر دینا چاہئے۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں اگر صحیح اسلامی طریق کے مطابق عمل کیا جائے تو کسی قسم کے جھگڑے پیدا ہی نہیں ہو سکتے۔اسلامی نظام نے ان امور کی طرف خاص طور پر زور دیا ہے اوّل جمہوریت یعنی حکومت پبلک کی رائے کے ساتھ چلنی چاہئے۔اس امر کو اسلام نے ایسا اصولی طور پر تسلیم کیا ہے کہ قرآن کریم نے خاص طور پر بنی نوع انسان کو نصیحت کرتے وئے فرمایا ہے کہ ان اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الأمنت إلى أهلها الله تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانت کو ان کے اہل کے سپرد کیا کرو یعنی مومنوں کی رائے کے ساتھ حکومت کا تصفیہ ہونا چاہئے۔پھر فرماتا ہے آمُرُهُمْ شُوری بینٹم کے مومن کی علامت یہ ہے کہ وہ مشورہ لے کر کام کرتا ہے صرف ذاتی غور و فکر پر ہی انحصار نہیں رکھتا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شاوِرُهُمْ في الأمر سے جب کام کرو تو لوگوں سے مشورہ لے لیا کرو۔دراصل فطرت انسانی اس قسم کی ہے کہ بعض دفعہ ایک بچہ کے منہ سے بھی ایسی بات نکل آتی ہے جو بڑے آدمی کو نہیں سوجھتی۔اسی وجہ سے اسلام نے اس امر پر خاص طور پر زور دیا ہے کہ کوئی شخص اپنے دماغ پر ایسا بھروسہ نہ کرے کہ وہ دوسروں سے مشورہ لینے کی ضرورت ہی نہ سمجھے اُسے چاہئے کہ اپنے ہم جلیسوں اور اردگرد بیٹھنے والوں سے ہمیشہ مشورہ لیتا رہا کرے۔میں نے دیکھا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض دفعہ مجلس میں کوئی بات کرتے یا گھر میں کوئی بات کرتے تو ملازمہ یا ایک چھوٹا لڑکا بھی جو اُس وقت موجود ہوتا اپنی رائے دینے لگ جاتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُسے روکنے کی بجائے یہی کہتے کہ رائے دے لو۔یہ روح ہے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے اور جو شخص اس کو دباتا ہے وہ اسلامی اصول کے خلاف چلتا ہے۔پس ہمیں نہ صرف یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ ہمارے لئے کام کی سہولت کس چیز میں ہے بلکہ ہمیں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ جماعت کے تمام افراد کی ٹرینینگ ہو جائے۔ہمیں کیا معلوم کہ کل کس شخص کے کندھوں پر جماعت کے کاموں کا بوجھ پڑنے والا ہے۔اگر چند