خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 186
خطابات شوری جلد سوم ۱۸۶ ت ۱۹۴۶ء اب بھلا کون سا آقا ایسا ہو سکتا تھا جو یہ بھی لکھ دیتا کہ اگر میں گھوڑے سے گر جاؤں اور رکاب میں میرا پاؤں پھنس جائے تو تمہارا فرض ہو گا کہ میری مدد کے لئے آؤ۔غرض تو جیہات میں جب کوئی انسان پڑ جاتا ہے تو پھر اس کے لئے کوئی حد بندی نہیں ہوسکتی۔حضرت خلیفہ اول یا میر ناصر نواب صاحب مرحوم ( مجھے اچھی طرح یاد نہیں ) سنایا کرتے تھے کہ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے پاس ایک دفعہ کچھ آدمی ایک شخص کو مباحثہ کے لئے لائے اور کہا کہ ہم آپ سے تقلید اور عدم تقلید کے مسئلہ پر مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مباحث آدمی نہیں تھے ایک بزرگ انسان تھے جب اُن سے کہا گیا کہ آپ سے تبادلہ خیالات کے لئے فلاں مولوی صاحب آئے ہیں تو اُنہوں نے اپنا سر اُٹھایا اور کہا ہاں اگر نیت بخیر باشد اگر نیت صالح کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں تو بے شک کر لیں۔وہ مولوی صاحب بھی اپنے دل میں تقویٰ رکھتے تھے تھوڑی دیر اُنہوں نے غور کیا اور پھر کہا یہ بحث تو محض پارٹی بازی کے نتیجہ میں تھی اور یہ کہہ کر خاموشی کے ساتھ اُٹھے اور چلے گئے تو نیت بخیر باشد کے ساتھ تو سارے کام چل جاتے ہیں اور پتہ بھی نہیں لگتا کہ قواعد کی ضرورت کیا ہے لیکن جہاں محبت بازی ہوتی ہے وہاں کوئی قانون حد بندی نہیں کر سکتا وہاں یہی سوال آ جائے گا کہ دیکھ لیں سرکا ر اس میں شرط یہ کھی نہیں“ ہم نے دیکھا ہے جہاں میاں بیوی میں محبت ہوتی ہے وہاں بعض دفعہ سارا دن بیوی گدھے کی طرح کام کرتی رہتی ہے مگر پھر بھی اُسے کوئی شکوہ پیدا نہیں ہوتا اور کبھی اس کی زبان پر اپنے شوہر کے خلاف حرف شکایت نہیں آتا۔اُس کے مقابلہ میں ایسے میاں بیوی بھی ہوتے ہیں کہ بیوی سارا دن چار پائی پر بیٹھی رہتی ہے، اس کا زمین پر پاؤں تک نہیں پڑتا، میاں آپ ہی روٹی پکاتا ہے، آپ ہی آگ جلاتا ہے، آپ ہی پھونکنی سے چولھا پھونکتا ہے، آپ ہی کھانا تیار کر کے بیوی کے سامنے رکھتا ہے اور جب اس کام سے فارغ ہوتا ہے اور بچہ ریں ریں کرنے لگتا ہے تو فوراً اسے گود میں اُٹھا لیتا اور سارا دن اسے کھلاتا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر چار پائی پر بیٹھے بیٹھے بیوی کہہ دیتی ہے کہ ذرا فلاں کام تو کر دیجئے تو وہ دوڑتے ہوئے آجاتا ہے اور کہتا ہے میں حاضر ہوں ابھی کام کئے دیتا ہوں افسوس ہے مجھے اس کام کا خیال ہی نہیں رہا تھا۔مگر شکایت نہ وہاں پیدا ہوتی ہے نہ یہاں۔