خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 173
خطابات شوری جلد سو ۱۷۳ ت ۱۹۴۶ء اور انجینئر نگ کالج میں بھی داخل ہو سکتا ہے۔بہر حال ہمارا ارادہ یہ ہے کہ مغربی افریقہ میں ایک لنڈن میٹرک سکول کھول دیا جائے۔میں نے اس غرض کے لئے تحریک جدید کے ایک واقف کو لنڈن بھجوا دیا ہے جو تعلیم حاصل کر رہا ہے، تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسے افریقہ بھجوایا جائے گا جہاں وہ لنڈن میٹرک سکول کی انشاء اللہ بنیا د ر کھے گا۔پھر قوم کی ذہنی اور مادی ترقی کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اعلیٰ دنیوی تعلیم رکھنے والے انسان کسی قوم میں سے زیادہ سے زیادہ پائے جائیں چنانچہ اس سال جماعت کے تین آدمیوں کو اعلیٰ دنیوی تعلیم کے حصول کے لئے بیرونی ممالک میں بھجوایا جا رہا ہے دو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ جائیں گے اور ایک کو انگلستان بھیجا جائے گا۔ہماری جماعت کی طرف سے جو مبلغ اس وقت تک انگلستان پہنچ چکے ہیں ان میں سے بھی بعض وہاں کے کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں تا کہ وہ وہاں کی اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کریں اور جو لوگ یورپ کی ڈگریوں کے شیدائی ہوتے ہیں وہ ان کی تبلیغ کو اچھی طرح سن سکیں۔اقتصادی حالت کی بہتری کی سکیم تعلیم کے ساتھ جماعت کی اقتصادی حالت کی درستی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس کے لئے میں نے گزشتہ سال سے ایک تجارتی سکیم جاری کی ہے اور جماعت سے ایسے افراد کا مطالبہ کیا ہے جو اپنی زندگی اس غرض کے لئے وقف کریں کہ وہ سلسلہ کے نظام کے ماتحت مختلف جگہوں پر تجارتی کاروبار شروع کر دیں گے۔اس تحریک کے ماتحت اس وقت تک صرف ایک سو ساٹھ نوجوانوں نے اپنی زندگی وقف کی ہے حالانکہ میری سکیم کے ماتحت ۵ ہزار افراد مختلف مقامات میں پھیلائے جائیں گے اس وقت تک ہم نے تحریک جدید کی ایک ایجنسی بمبئی میں قائم کی ہے جس میں ایک تو تحریک جدید کا واقف کام کر رہا ہے اور دوسرا ایسا شخص ہے جس نے تحریک جدید کے وقف کے ماتحت اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا ہے۔وہ فوج سے ریٹائرڈ ہو کر آیا تو اُس نے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔اس وقت وہ بمبئی میں کام کر رہا ہے لیکن قریب زمانہ میں میرا ارادہ اس سکیم کو اور زیادہ وسیع کرنے کا ہے اور میری تجویز یہ ہے کہ ہر مقام پر ایک ایک تحریک جدید کا واقف ہو اور ایک تجارتی واقف اور دونوں مل کر کام کریں۔سر دست میں نے محکمہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مدراس، کراچی ،