خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 154
خطابات شوری جلد سوم تہذیب سے کہے۔۱۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء افضال الہیہ پر سجدہ شکر حضرت مرزا شریف احمد صاحب یہ تجویز پڑھ ہی رہے تھے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی اچانک کرسی سے اُٹھے اور پاس ہی فرش پر جو تھوڑی سی جگہ تھی وہاں سجدہ کیا۔یہ دیکھتے ہی چُپ چاپ تمام حاضرین اپنی اپنی جگہ پر سجدہ میں گر گئے اور حضور کے اُٹھنے پر جب اللهُ اَكْبَر کہا گیا تو اُٹھے۔اُس وقت حضور نے حسب ذیل تقریر فرمائی۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اکثر لوگ خدا کے نشانوں سے اعراض کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں ھے آج سے ۴۵ سال پہلے وہ شخص جس کی جوتیوں کا غلام ہونا بھی ہم اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں اُسے اُس وقت کی اپنی جماعت کی حالت دیکھتے ہوئے ایک بہت بڑا مقصد اور کام یہ نظر آیا کہ ایک ایسا کمرہ بنایا جائے جس میں سو آدمی بیٹھ سکے مگر آج ہم ایک ایسے کمرے میں بیٹھے ہیں جو اس غرض سے نہیں بنایا گیا تھا کہ مختلف مذاہب کے لوگ اس میں تقریریں کریں مگر اس میں پانچ سو کے قریب آدمی بیٹھے ہیں اور وہ بھی گرسیوں پر جو زیادہ جگہ گھیرتی ہیں۔گویا اُس زمانہ میں جماعت کی طاقت اور وسعت کی یہ حالت تھی کہ سو آدمیوں کے بیٹھنے کا کمرہ بنایا جائے اور سو آدمیوں کو بٹھانے کے لئے جگہ بنانے کی غرض سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اعلان کرنا پڑا اور اسے ایک بڑا کام سمجھا گیا اور خیال کیا گیا کہ سو آدمیوں کے بیٹھنے کے لئے کمرہ بنانا بھی مشکل ہوگا۔مجھے منارة امسیح کی تعمیر کے وقت کی یہ بات یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام شہ نشین پر بیٹھے تھے اور میر حامد شاہ صاحب کے والد حکیم حسام الدین صاحب سامنے بیٹھے تھے۔منارہ بنانے کی تجویز ہو رہی تھی۔سات آٹھ ہزار جو جمع ہوا تھا وہ بنیا دوں میں ہی صرف ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس فکر میں تھے کہ اب کیا ہو گا۔حکیم حسام الدین صاحب زور دے رہے تھے کہ حضور یہ بھی خرچ ہو گا ، وہ بھی ہوگا اور کئی ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ پیش کر رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن کی با تیں سن کر فرمایا حکیم صاحب کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ منارہ کی تعمیر کو ملتوی کر دیا جائے۔چنانچہ ملتوی کر دیا گیا۔