خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 101
خطابات شوری جلد سوم 1+1 مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء تیار ہو جاؤ، اب تم زیادہ انتظار مت کرو۔پیشگوئیوں سے پتہ لگتا ہے کہ وہ وقت اب آ گیا ہے جب زیادہ انتظار نہیں کیا جائے گا۔جب تمہیں دیر تک منتظر رہنا نہیں پڑے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اور قیامت اس طرح اکٹھے ہیں جس طرح انگشت شہادت کے ساتھ دوسری اُنگلی ملی ہوئی ہوتی ہیں۔پس بہت بڑے تغیرات ہیں جو دنیا میں رونما ہونے والے ہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ تغیرات بڑی بھاری اہمیت رکھتے ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ اب کیا ہو جائےگا مگر اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم الشان تغیر یا بہت بڑے عظیم الشان تغیرات کی بنیاد میں جلد سے جلد رکھ دی جائیں گی اور وہ شخص جو ان مہمات میں میرا ساتھ نہیں دے گا ، وہ شخص جو جلد جلد قدم کو نہیں بڑھائے گا ، اُس کے دل پر زنگ لگ جائے گا اور وہ اِس خطرہ میں ہو گا کہ اپنے پہلے ایمان کو بھی کھو بیٹھے۔اب میں دعا کر دیتا ہوں کیونکہ ساڑھے پانچ سے زیادہ وقت ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے فضل سے اس رنگ میں کام کرنے کی ہمت بخشے کہ ہم اُس کے دین کی باتیں لوگوں تک پہنچائیں۔اُن پر خود عمل کریں اور دوسروں سے بھی عمل کرائیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اُن وعدوں کا اہل بنائے جو اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ اسلام کے دوبارہ احیاء کے متعلق کئے اور ہمارے ذریعہ سے وہ اسلام کا نور دنیا کے چاروں کونوں تک پھیلائے اور ہمیں ہر قسم کی کوتاہیوں اور ہر قسم کے گناہوں اور ہر قسم کی اخلاقی کمزوریوں سے محفوظ رکھے تا کہ قیامت کے دن جب آدم سے لے کر آخر وقت تک کے تمام بنی نوع انسان جمع ہوں گے اور ہمارے باپ دادا بھی اُن میں موجود ہوں گے ہم ذلیل و رسوا نہ ہوں بلکہ وہ ہمیں عزت کے مقام پر جگہ دے۔اور ہم اپنے رب سے یہ کہہ سکیں کہ اے خدا! جو فرض تو نے ہمارے ذمہ لگایا تھا ہم اس کو پورا کر کے آئے ہیں اور تو اور تیرے فرشتے اس پر گواہ ہیں۔“ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء) اسد الغابہ جلد ۳ صفحه ۲۲۱ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي الا الله باب قول النبي۔۔لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خليلاً