خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 100
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء جلد زمینوں کو طے کرتے چلو۔جب ایک شخص کو افسر مقرر کیا جاتا ہے تو اُس افسر کو حکم دینے کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ماتحتوں کو اُس کے واسطہ سے حکم دیا جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ آدم کو سجدہ کرو۔اور ڈانٹتا شیطان کو ہے کہ تم نے کیوں سجدہ نہ کیا۔شیطان میں نفسانیت سہی ، ہزاروں گناہ سہی ، مگر اُس میں اتنی عقل ضرور تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا کہ اے خدا! تو نے مجھے کب حکم دیا تھا، تو نے تو فرشتوں کو حکم دیا تھا مجھے تو حکم دیا ہی نہیں تھا۔وہ جانتا تھا کہ فرشتوں کو جب حکم دیا گیا تو اس کے معنے یہی تھے کہ میں بھی اس کی اتباع کروں۔پس وہ نادان جو کہتا ہے کہ یہ تو مصلح موعود کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ جلد جلد بڑھے گا، میرے متعلق تو نہیں کہا گیا کہ میں بھی جلد جلد بڑھوں وہ شیطان سے بھی اپنے آپ کو زیادہ احمق قرار دیتا ہے۔شیطان نے تو تسلیم کر لیا تھا کہ جب فرشتوں کو حکم دیا گیا تو درحقیقت اُن کے واسطہ سے مجھے بھی حکم دیا گیا مگر یہ تسلیم نہیں کرتا کہ مصلح موعود کو جو حکم دیا گیا ہے اُس کے ماتحت وہ خود بھی آتا ہے۔پس ہر احمدی کو سمجھ لینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر میرے متعلق جو یہ خبر دی ہے کہ میں جلد جلد بڑھوں گا ، اس کے معنے یہ نہ تھے کہ دشمنوں کی صفوں کے بالمقابل میں اکیلا کھڑا ہوں گا بلکہ یہ تھے کہ کام کی اہمیت کے پیش نظر میرا فرض ہوگا کہ میں تیزی اور سُرعت کے ساتھ اپنے قدم کو بڑھاتا چلا جاؤں اور جب میں دشمن کے مقابلہ میں جلد جلد قدم بڑھاؤں گا تو خدا تعالیٰ اُن لوگوں کو بھی جو مجھ پر ایمان لائیں گے اس بات کی توفیق عطا فرما دے گا کہ وہ جلد جلد اپنے قدم بڑھائیں۔اسی طرح جب خدا نے مجھے خبر دی کہ زمین میرے پاؤں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے اور میں تیزی کے ساتھ بھاگتا جا رہا ہوں تو اس کے معنے بھی درحقیقت یہی تھے کہ جب میں تیزی کے ساتھ بھاگوں گا اور زمین میرے قدموں کے نیچے سمٹنی شروع ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان سچے مخلصوں کو بھی جنہیں میرے ساتھ وابستگی حاصل ہوگی اس امر کی توفیق عطا فرما دے گا کہ وہ زمین کو جلد جلد طے کریں اور آناً فاناً دُور دراز فاصلوں کو طے کرتے ہوئے دنیا کے کناروں تک پہنچ جائیں۔پس اپنے اندر ایک غیر معمولی تغیر پیدا کرو اور جلد سے جلد عظیم الشان قربانیوں کے لئے