خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 97

خطابات شوری جلد سوم ۹۷ مشاورت ۱۹۴۴ء جب کثرت سے قرآن اور حدیث کے ماہر قوم میں موجود ہوں تو کسی کی موت قوم کو متزلزل نہیں کر سکتی بلکہ کسی ایک شخص کی موت کی حیثیت ایسی ہی رہ جاتی ہے جیسے کسی کی جھولی میں بہت سے دانے موجود ہوں تو اُن میں سے کوئی ایک دانہ زمین پر گر جائے۔جس طرح چنے چباتے وقت یا مکئی کے دانے کھاتے وقت کوئی ایک کھیل زمین پر گر جاتی ہے تو انسان پر واہ بھی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسے سینکڑوں دانے میری جھولی میں موجود ہیں۔اسی طرح جب قوم میں کثرت سے ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو علوم وفنون کے ماہر ا ہوں تو اُن میں سے کسی کی موت جماعت کے لئے پریشانی کا موجب نہیں ہوسکتی۔زندہ قوم کی علامت در حقیقت زندہ قوم کی علامت ہی یہی ہے کہ اُس کے اندر اس قدر علماء کی کثرت ہوتی ہے کہ کسی ایک کے فوت ہونے پر اُسے ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ آئندہ کام کس طرح چلے گا۔بے شک شخصی لحاظ سے ایک شخص کی وفات دکھ اور رنج کا موجب ہوسکتی ہے اور ہمیشہ ہوتی ہے مگر بہر حال یہ ایک شخصی سوال ہوگا ، قومی سوال نہیں ہوگا۔ایک شخص کا باپ مر جاتا ہے، ایک شخص کی ماں مرجاتی ہے تو اُس کا دل زخمی ہوتا ہے، اُس میں سے خون کے قطرے ٹپک رہے ہوتے ہیں مگر وہ یہ نہیں کہتا کہ اب قوم کا کیا حال ہوگا۔وہ جانتا ہے کہ دنیا بس رہی ہے اور بستی چلی جائے گی۔آج ایک مرتا ہے تو کل اور پیدا ہو جاتا ہے۔کل دوسرا مرتا ہے تو پرسوں تیسرا پیدا ہو جاتا ہے۔بہر حال کسی قوم کی زندگی کی یہ علامت ہے کہ اُس میں علم کی کثرت ہو، اُس میں علماء کی کثرت ہو، اُس میں ایسے نفوس کی کثرت ہو جو قوم کے سرکردہ افراد کے مرنے پر اُسی وقت اُن کی جگہ کو پُر کرنے کے لئے تیار ہوں۔مسلمانوں کے تنزّل اور اُن کے ادبار مسلمانوں کے تنزّل اور ادبار کا بڑا سبب کا سب سے بڑا باعث یہی ہوا کہ جب ابوبکر فوت ہو گیا تو دوسرا ابوبکر پیدا نہ ہوا ، جب عمر فوت ہو گیا تو دوسرا عمر پیدا نہ ہوا ، ئب عثمان فوت ہو گیا تو دوسرا عثمان پیدا نہ ہوا ، جب علی فوت ہو گیا تو دوسرا علی پیدا نہ ہوا۔اب ہم نے یہ تغیر پیدا کرنا ہے کہ جب ایک ابوبکر مرے تو اُسی وقت دوسرا اور پھر تیسرا ابوبکر پیدا ہو جائے۔جب ایک عمر مرے تو اُسی وقت دوسرا اور تیسر ا عمر پیدا ہو جائے ، اور :