خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 88

خطابات شوری جلد سوم ۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کہ میں نے اُن کے سوالات کے کیا جوابات دیئے ہیں۔حدیثوں سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بعض لوگ آپ کے پاس آتے اور کہتے یا رسول اللہ ! ہم آپ سے سوال کرنا چاہتے ہیں مگر وہ سوال ہم اپنی طرف سے نہیں کریں گے بلکہ اپنی قوم کی طرف سے کریں گے۔چنانچہ وہ سوال کرتے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اُس کا جواب بیان فرماتے۔اسی طرح ہو سکتا ہے کہ مختلف جماعتوں کو اپنے اپنے حالات کے مطابق مختلف سوالات پیدا ہوتے ہوں جن کے جوابات معلوم کرنے کی اُن کے دلوں میں خواہش رہتی ہو۔ایسی صورت میں ضروری ہے کہ جب جماعتوں کی طرف سے نمائندے آئیں تو وہ ان سوالات کو لکھ کر لے آئیں۔خواہ وہ جماعت کے نظام سے تعلق رکھتے ہوں یا روحانیت کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا علم الاخلاق کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا غیر مذاہب کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا فلسفہ اور اقتصاد کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں اور پھر روزانہ ایک ایک دو دو کر کے وہ سوالات میرے سامنے پیش کرتے جائیں اور اُن کے جوابات نوٹ کرتے جائیں تا کہ واپس جا کر اپنی اپنی جماعتوں کو اُن جوابات سے آگاہ کرسکیں۔یا درکھو! انسان پورا فائدہ تبھی اٹھا سکتا ہے جب وہ علمی اور روحانی اور مذہبی باتوں کو نہ صرف خود سُنے بلکہ دوسروں تک اُن کو پہنچانے کی کوشش کرے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ خوبی اپنے اندر ایسے رنگ میں پیدا کی تھی کہ آج تک اس کی مثال کسی اور قوم میں نظر نہیں آتی۔اُن میں سے ہر شخص اپنے آپ کو روحانی خزانہ کی تقسیم کا ذمہ وار سمجھتا تھا۔اور وہ اپنے فرائض میں سے اسے ایک اہم ترین فرض قرار دیتا تھا کہ جو کچھ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے اُسے دوسروں کے پاس بھی بیان کروں۔پس اس غرض کے لئے جو دوست قادیان میں آئیں انہیں چاہئے کہ وہ باتوں کو نوٹ کیا کریں اور جب اپنی اپنی جماعتوں میں واپس جائیں تو لوگوں کو بتائیں کہ ہم نے یہ سوال کیا تھا یا فلاں شخص نے خلیفہ وقت سے یہ سوال کیا تھا اور اُنہوں نے اس کا یہ جواب دیا۔اس طرح ہر شہر اور ہر گاؤں میں ان باتوں کو دُہرایا جائے اور اس قدر تو اتر اور تسلسل اور تکرار کے ساتھ بیان کیا جائے کہ ہماری جماعت کا کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جس کے کانوں تک یہ تمام باتیں نہ پہنچ جائیں۔