خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 84

خطابات شوری جلد سوم ۸۴ مشاورت ۱۹۴۴ء سکتے ہیں۔یہ بارہ سو من غلہ ہو گیا۔پنجاب کے باقی زمیندار اور شہروں کے رہنے والے احمدی اگر اسی طرح کوشش کریں تو چھ سات سو من غلہ وہ بھی دے سکتے ہیں۔اس طرح دو ہزار من غلہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی آسانی سے بغیر کوئی خاص بوجھ برداشت کرنے کے اکٹھا ہوسکتا ہے بلکہ تین سومن کے قریب غلہ تو قادیان سے بھی جمع ہو جاتا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اس دفعہ بھی جماعتیں اس تحریک میں نمایاں طور پر حصہ لینے کی کوشش کریں گی اور تعہد سے غلہ فراہم کر کے مرکز میں ارسال کریں گی تا کہ غرباء کی تکالیف کا انسداد ہو اور انہیں بر وقت امداد دی جاسکے۔میں امید کرتا ہوں کہ شہری اور دیہاتی جماعتیں بہت جلد اس طرف توجہ کریں گی۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنے کھانے کے ساتھ اپنے غریب بھائی کا خیال رکھنے کی توفیق بھی دے۔ایک اور نصیحت بھی میں ابھی کر دینا چاہتا ہوں۔شاید بعد میں اس کا موقع ملے یا نہ ملے کہ اس دفعہ فصلوں کی حالت سخت ناقص ہے اس لئے احمدی زمینداروں کو ساؤنی (خریف) کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے اور جوار اور مکئی اور باجرہ کی زیادہ سے زیادہ پیدا وار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس دفعہ بارش ایسے موقع پر ہوئی ہے جب کہ فصل بالکل تیار کھڑی تھی اس لئے اس کا بہت سا حصہ ضائع ہو گیا ہے اور ملک میں قحط کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔گورنمنٹ کی طرف سے بھی اس قسم کی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُسے خطرہ ہے کہ پنجاب میں قحط پڑ جائے گا اور ڈر ہے کہ یہاں بھی ویسے ہی حالات پیدا نہ ہو جائیں جیسے بنگال میں پیدا ہوئے۔ان حالات کے مقابلہ کے لئے ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ ساؤنی کی فصل کی طرف خاص طور پر توجہ کریں تا کہ وہ اُن لوگوں کے لئے اپنی گندم کو فارغ کرسکیں جو مکئی یا باجرہ وغیرہ کھانے کے عادی نہیں ہوتے۔یہ قربانی ہوگی جو ان کی طرف سے اپنے ہمسائیوں کے لئے کبھی جائے گی۔زمیندار چونکہ خود جوار ، مکئی اور باجرہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ ساؤنی کی فصل کو زیادہ مضبوط بنائیں تا کہ وہ گندم شہروں میں رہنے والے دوستوں کے لئے مہیا کر سکیں اور قحط کی تکلیف سے ہمارے صوبہ کے لوگ محفوظ رہیں۔بنگال میں قحط کی تکلیف سے دس لاکھ آدمی مرے ہیں اور یہ اندازہ بھی گورنمنٹ کا ہے