خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 80
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء بے کسے مشهد دین احمد هیچ خویش و یار نیست ہر کسے درکار خود با دین احمد کار نیست پس اس وقت اسلام سب سے زیادہ امداد کا محتاج ہے اور اس طرح مدد کرنے سے نہ صرف افراد کی مدد ہوگی بلکہ اس عظیم الشان صداقت کی بھی مدد ہوگی جو بے کس ہے۔پس یہ نہایت ثواب کا کام ہے دُنیوی لحاظ سے بھی اور دینی لحاظ سے بھی اور میں سمجھتا ہوں تھوڑے عرصہ میں ایسے ماہر پیدا ہو سکیں گے جو باہر نکل کر اچھے کام کر سکیں گے۔ہم کارخانوں میں کام سیکھنے والوں کو ساتھ تعلیم بھی دیں گے اور اس طرح انہیں صرف مستری نہیں بلکہ انجینئر بنائیں گے۔پس ایک بات تو میں جماعت کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اِن کارخانوں کے حصے خریدے اور یہ بات مدنظر رکھ کر خریدے کہ کوئی چیز دنیا کی بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی ایسی نہ ہو جو احمدیوں کی بنائی ہوئی نہ ہو۔اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جب ہماری جماعت ترقی کرے گی تو ساتھ اسلام کی بھی ترقی ہوگی۔دوسرے یہ بھی یاد رکھیں کہ چونکہ ارادہ یہ ہے کہ ہر سہ ماہی یا ششماہی کے بعد نئے لڑکے داخل کئے جاتے رہیں اس لئے باہر کی جماعتوں میں جو اچھے لڑکے ہنر سیکھنے کے شوقین ہوں ان کے متعلق اطلاع دیتے رہیں۔تا ان میں سے مناسب تعدا دلڑکوں کی منتخب کر کے اسے اس کام پر لگایا جائے مگر یاد رہے کہ ایسے ہی لڑکے ہونے چاہئیں جو ہوشیار، محنتی اور پڑھے لکھے ہوں۔تیسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ احباب اس نصیحت کو بھی یاد رکھیں جو میں پہلے کر چکا ہوں کہ جن کے پاس کچھ سرمایہ پڑا ہو اور ابھی اسے استعمال نہ کرنا ہو یا اس کے استعمال کرنے میں کچھ وقفہ ڈال سکتے ہوں ، وہ اسے اپنے پاس رکھنے کی بجائے یہاں بھجوا دیں۔انہیں چھ ماہ یا ایک سال تک انشاء اللہ واپس کر دیا جائے گا۔( یکم اپریل ۱۹۳۷ء تک ) کل اسی فنڈ میں چوہدری غلام حسین صاحب سرگودھا نے دوسو روپے دیئے ہیں اور ایک بہن نے جو ملازمت سے ریٹائر ہو کر آئی ہیں اور انہیں ۷۷۴ روپیہ پراویڈنٹ فنڈ کا ملا ہے وہ انہوں نے بھجوا دیا ہے۔پس جو دوسرے دوست یہاں بیٹھے ٹن رہے ہیں اگر ان کے پاس