خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 79
خطابات شوری جلد دوم ۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء دل کی ایک حسرت میں نہیں جانتا کہ دوسرے دوستوں کا کیا حال ہے لیکن میں تو جب ریل گاڑی میں بیٹھتا ہوں میرے دل میں حسرت ہوتی ہے کہ کاش! یہ ریل گاڑی احمدیوں کی بنائی ہوئی ہو، اور اس کی کمپنی کے وہ مالک ہوں۔اور جب میں جہاز میں بیٹھتا ہوں تو کہتا ہوں کاش! یہ جہاز احمد یوں کے بنائے ہوئے ہوں اور وہ ان کمپنیوں کے مالک ہوں۔میں پچھلے دنوں کراچی گیا تو اپنے دوستوں سے کہا کاش ! کوئی دوست جہاز نہیں تو کشتی بنا کر ہی سمندر میں چلانے لگے اور میری یہ حسرت پوری کر دے اور میں اُس میں بیٹھ کر کہہ سکوں کہ آزاد سمندر میں یہ احمدیوں کی کشتی پھر رہی ہے۔دوستوں سے میں نے یہ بھی کہا کاش! کوئی دس گز کا ہی جزیرہ ہو جس میں احمدی ہی احمدی ہوں اور ہم کہہ سکیں کہ یہ احمدیوں کا ملک ہے کہ بڑے کاموں کی ابتداء چھوٹی ہی چیزوں سے ہوتی ہے۔یہ ہیں میرے ارادے اور یہ ہیں میری تمنا ئیں۔ان کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کام شروع کریں مگر یہ کام ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ ان جذبات کی لہریں ہر ایک احمدی کے دل میں پیدا نہ ہوں اور اس کیلئے جس قربانی کی ضرورت ہے وہ نہ کی جائے۔دنیا چونکہ صنعت و حرفت میں بہت ترقی کر چکی ہے، اس لئے احمدی جو اشیاء اب بنائیں گے وہ شروع میں مہنگی پڑیں گی مگر باوجود اس کے جماعت کا فرض ہے کہ انہیں خریدے۔ایک دفعہ دیال باغ آگرہ والے لاہور اپنی اشیاء کی نمائش کرنے کے لئے آئے تو انہوں نے مجھے بھی دعوت دی۔گورنر پنجاب کو اُنہوں نے ٹی پارٹی دینے کا انتظام کیا ہوا تھا اور اس موقع پر چیزیں بھی فروخت کرتے تھے۔اُس وقت ان کی چیزیں نسبتاً مہنگی تھیں مگر وہ کہتے تھے بے شک ہماری اشیاء مہنگی ہیں مگر ان کے خریدنے سے غرباء کی مدد بھی ہو جاتی ہے۔چنانچہ لوگ اُن کا مال شوق سے خریدتے تھے اور خود میں نے بھی ایک اٹیچی کیس ان سے خریدا تھا۔اگر دوسری قو میں اپنی جماعت کو بڑھانے کے لئے یہ قربانی کر سکتی ہیں تو کیوں احمدی ایسا نہیں کر سکتے جبکہ ان کی ضرورت دوسرے لوگوں سے بھی اہم ہے کیونکہ ہمارے کارخانوں کی اشیاء خریدنے سے نہ صرف غرباء کو امداد ملے گی بلکہ سب سے بڑے غریب اسلام کو بھی مدد ملے گی جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :-