خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 73
۷۳ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء دوسری صورت یہ ہے کہ جو بقایا زیادہ عرصہ کا ہو اُس کے متعلق جماعت سے سمجھوتا کر لیا جائے کہ اُس کا ۳۳ فیصدی یا ۲۵ فیصدی ادا کر دیا جائے گا بشرطیکہ ماہوار چندہ باقاعدہ ادا کیا جائے۔تو سمجھ لیا جائے گا کہ بقایا ادا ہو گیا۔اور آئندہ بقایا ہونے ہی نہ دیا جائے۔لیکن جب تک سابقہ بقایا کا تصفیہ نہ ہو جائے ہر سال بجٹ کے ساتھ ہی بقایا کی لسٹ ہو جسے پیش کر کے کہا جائے کہ ادا کرو۔اس کی تفصیلات بھی میں مالی کمیٹی کے سپر د کرتا ہوں۔(۱۲)۔بعض دوستوں نے تجویز پیش کی ہے کہ کمیشن پر محصل رکھے جا ئیں۔اس پر بھی مالی کمیٹی غور کرے۔(۱۳)۔شیخ صاحب دین صاحب کی تجویز ہے کہ تاجر کے لئے چندہ کی رقم یکبار دینا مشکل ہوتی ہے اگر ان کے ہاں صندوقچیاں رکھ دی جائیں تو وہ روزانہ کچھ پیسے ڈالتے جائیں اس طرح ان کے لئے آسانی ہوگی۔میں سمجھتا ہوں یہ تجویز بھی مفید ہوسکتی ہے۔روزانہ آمد کا حساب کر کے چندہ کی رقم صندوقچی میں ڈال دیا کریں تو ان کے لئے بہت آسانی رہے۔ہندو تاجر جو بہت بخیل ہوتے ہیں صندوقچیوں کے ذریعہ ہر سال بڑا چندہ نکال دیتے ہیں۔وکلاء بھی اسی طرح کر سکتے ہیں۔بچوں میں بھی چندہ ادا کرنے کی عادت ڈالی جاسکتی ہے۔اس سے مالی نفع کو اتنا نہ ہو مگر بچوں پر اثر بہت عمدہ پڑے گا۔میں اپنے گھر میں اسی طرح کرتا ہوں۔جب بچوں کو کچھ دیتا ہوں تو کہہ دیتا ہوں پہلے چندہ دے آؤ پھر باقی خرچ کرنا۔پیچھے جب چندہ تحریک جدید کا اعلان کیا گیا تو چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کا بچہ دوڑا آیا کہ میرے اتنے پیسے جمع ہیں یہ جمع کرا دو۔غرض اس طرح بچوں پر اچھا اثر پڑتا ہے اور ماں باپ پر بھی کہ بچہ دے رہا ہے تو ہم بھی دیں۔صوفی عبدالرحیم صاحب نے شکوہ کیا ہے کہ جب میں لا ہور جاتا ہوں تو ناد ہند آگے بڑھ بڑھ کر بیٹھتے ہیں۔میں اُنہیں یقین دلاتا ہوں کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے کسی کے لئے کوئی ممانعت نہیں کہ وہ آگے نہ آئے پس وہ بھی آگے آ سکتے ہیں۔عبدالرحیم صاحب کی یہ تجویز معقول ہے کہ افراد جو عذر پیش کریں بقایا کے متعلق۔کہ ان وجوہات سے ادا نہیں ہوا اُن کو بھی قبول کیا جائے۔