خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 729
خطابات شوری جلد دوم ۷۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء نے یہ سمجھا تھا کہ شاید یہ خبریں اس وقت کے متفرق واقعات کے متعلق ہیں۔مگر بعد میں مجھے غور کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ رویا اور کشوف اِس وقت کے متفرق واقعات پر مشتمل نہیں بلکہ اس تغیر کے بعد ایک اور نئے تغیر کی خبر دے رہے ہیں۔ان خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ کے خاتمہ پر ایک بہت بڑا حملہ ایک یورپین حکومت کی طرف سے اسلام پر ہونے والا ہے اور وہ دنیا میں اپنا اقتدار بڑھا کر اِس رنگ میں کوشش کریں گے کہ اُن کی کوششوں سے اسلام کو ضعف پہنچنے کا خطرہ ہو گا۔آجکل وہ حکومت انگریزوں کی دوست ہے لیکن مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ فتح اور کامیابی کے بعد یہ لوگ اسلام پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے۔میں نہیں کہ سکتا یہ تحریک کس شکل میں ہوگی ، لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے بتایا گیا ہے کہ اس ملک کی یہ کوشش اسلام کے لئے خطرناک ہوگی اور پھر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کا علاج کسی ظاہری تدبیر سے نہیں ہوسکتا۔اس کے لئے دعائیں ہی کارگر ہتھیار ثابت ہوں گی اور انہی دعاؤں سے تمہیں کام لینا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں لڑائی کا یہ سلسلہ جو اس وقت جاری ہے، زیادہ عرصہ تک نہیں رہ سکتا۔۱۹۴۵ء کے پہلے نصف حصہ میں یا تو جنگ بالکل ختم ہو جائے گی یا ایسی صورت اختیار کر لے گی کہ انسان اطمینان کے ساتھ یہ کہہ سکے گا کہ اس لڑائی کا کیا انجام ہوگا اور اس کی بنیاد اسی سال یعنی ۱۹۴۳ء میں پڑے گی مگر یہ فتنے ابھی ختم نہیں ہوں گے اللہ تعالیٰ ان فتنوں کو لمبا کرے گا اور لمبا کرتا چلا جائے گا تا کہ وہ قوم اس عرصہ میں تیار ہو جائے جس نے آئندہ دنیا کی حکومتیں اپنے ہاتھ میں لینی ہیں۔سورہ کہف میں ذکر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھی کے ساتھ جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گر رہی تھی۔انہوں نے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ کھڑا کر دیا اور اسے گرنے سے محفوظ کر دیا۔پھر اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں یہ بتاتا ہے کہ دیوار کو مضبوط بنانے میں حکمت یہ تھی کہ اس کے نیچے دو یتیم بچوں کا خزانہ تھا اور اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ جب تک وہ بچے جوان نہ ہو جائیں اُن کا خزانہ دیوار کے نیچے محفوظ رہے۔جنگ کی موجودہ حالت بھی ایسی ہی ہے مگر وہاں تو دیوار بنانے سے خزانہ محفوظ رہا تھا اور یہاں دیوار میں گرانے سے خزانہ محفوظ رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان دنیوی عمارتوں