خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 713 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 713

خطابات شوری جلد دوم ۷۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء غور کر کے یہ کمیٹی میرے پاس رپورٹ کرے تا کہ آئندہ ان کوتاہیوں کا ازالہ ہو جائے۔میرا اپنا تجربہ بھی یہی ہے کہ احمد یہ ہوٹل لاہور کے طلباء میں اب وہ جوش نہیں رہا جو پہلے پایا جاتا تھا۔پہلے زمانہ میں جو طالب علم وہاں داخل ہوتے تھے وہ سلسلہ کی تحریکات میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔جب مسجد لنڈن کی میری طرف سے تحریک کی گئی تو صرف احمد یہ ہوٹل لاہور کے طلباء نے دو ہزار روپیہ چندہ دیا تھا مگر اب بتانے والے بتاتے ہیں کہ تفسیر کبیر کی خریداری کے متعلق تحریک کی گئی تو لڑکوں نے عام طور پر اس کے خریدنے سے انکار کیا۔اب گجا تو یہ حالت تھی کہ احمد یہ ہوٹل کے طلباء نے مسجد کے لئے دو ہزار روپیہ دے دیا اور کجا یہ حالت ہے کہ ایسی ضروری کتاب جس کا مطالعہ اُن کے ایمان کے لئے نہایت ہی ضروری ہے، اس کی خریداری سے انہوں نے انکار کر دیا آخر یہ فرق کیوں ہے؟ خلیفہ وقت پر اعتراض کے نقصان میں سمجھتا ہوں بے شک اس کی ذمہ داری لڑکوں پر بھی ہے مگر ایک حد تک اس کی ذمہ داری اُن لوگوں پر بھی ہے جنہوں نے اس وقت تقریریں کی ہیں۔پہلے یہ صورت ہوا کرتی تھی کہ سال میں دو تین دفعہ جب بھی مجھے لاہور جانے کا موقع ملتا میں خاص ارادہ سے احمد یہ ہوٹل میں ٹھہرا کرتا تھا۔اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ ہمیں ٹھہرنے کے لئے کوئی اور جگہ نہیں ملتی تھی۔جگہیں تو کئی ملتی تھیں مگر میں محض اس لئے وہاں ٹھہرتا تھا کہ لڑکوں کے اندر دینی روح پیدا ہوگی اور احمدیت سے ان کا اخلاص بڑھے گا مگر بعض لوگ اعتراض کرنے کے عادی ہوتے ہیں اُنہوں نے میرے احمد یہ ہوسٹل میں ٹھہرنے پر بھی اعتراض کرنے شروع کر دیئے کہ اس طرح لڑکوں کی پڑھائی میں حرج واقع ہوتا ہے۔آخر میری غیرت اس کو برداشت نہ کرسکی اور میں نے احمد یہ ہوسٹل میں ٹھہرنا ترک کر دیا مگر اس کے ساتھ ہی لڑکوں کے جوش اور اخلاص میں بھی کمی آنی شروع ہو گئی۔میں نے دیکھا ہے پہلے امتحان کے دن ہوا کرتے تھے مگر لڑ کے احمدیت کی تبلیغ کے جوش میں سائیکلوں پر چڑھ کر تمام شہر میں اشتہار بانٹتے پھرتے تھے اور پھر امتحان میں وہ کامیاب بھی ہو جاتے تھے مگر اب باوجود اس کے کہ اُن کی پڑھائی کا اس رنگ میں کوئی حرج نہیں ہوتا اُن کے امتحانات کے نتائج نہایت رڈی ہو گئے ہیں اور دینی حالت میں جو فرق پیدا ہو گیا ہے وہ تو ظاہر ہی ہے۔پس درحقیقت اس میں اُن لوگوں