خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 697
۶۹۷ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء سلسلہ کی ضروریات کے لئے میں دیتا ہوں، اگر ان کے متعلق جماعت پر میرا کوئی اختیار نہ ہو تو خواہ میرے سامنے جماعت اُس چندہ سے آتش بازی چلا دے میری طبیعت میں ذرا بھی ملال پیدا نہ ہو کیونکہ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ جماعت نے روپیہ کہاں خرچ کیا۔مجھے تو ثواب اُس وقت مل گیا تھا جب میں نے چندہ دیا اور جب مجھے ثواب مل چکا ہے تو مجھے اس سے کیا کہ وہ کہاں خرچ ہوگا اور کہاں خرچ نہیں ہوا۔اگر خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہوتا کہ جب رو پیر صحیح مصرف پر استعمال ہو گا تب ثواب ملے گا یا جتنا روپیہ استعمال ہوگا اتنے روپیہ کا ہی ثواب ملے گا باقی روپے کا ثواب نہیں ملے گا تو بے شک مجھے تر ڈ دہوتا اور میں فکر کرتا کہ یہ روپیہ صحیح جگہ پر صرف ہونا چاہئے اور سب کا سب صرف ہونا چاہئے۔مگر جبکہ خدا تعالیٰ اسی وقت ثواب دے دیتا ہے جب انسان روپیہ دیتا ہے بلکہ دینے کا تو کیا ذکر ہے جب انسان دینے کا ارادہ کرتا ہے اس وقت ثواب دے دیتا ہے تو ایسی حالت میں مجھے یا کسی اور کو اس بات کا کیا شکوہ ہو سکتا ہے کہ وہ روپیہ صحیح مقام پر کیوں خرچ نہیں کیا گیا۔اب اس کے خرچ کا میں ذمہ دار نہیں۔میرا کام اتنا ہی تھا کہ روپیہ دے دوں۔میں نے روپیہ دے دیا اور اس کی جگہ ثواب اپنے گھر لے آیا۔اب میرا کیا حق ہے کہ میں دی ہوئی چیز کے متعلق یہ دیکھوں کہ دوسرے نے اسے کہاں خرچ کیا ہے۔میں نے ایک چیز دینی تھی دے دی اور مجھے اس کی قیمت مل گئی۔اب مجھے اس سے کیا کہ وہ روپیہ کہاں جاتا ہے۔پس یہ سب دنیوی چیزیں ہیں اور ان کا زیادہ خیال رکھنا انسان کے ایمان کو کمزور کرتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ اصلاح قوم کے لئے انسان کوشش نہ کرے، کرے اور ضرور کرے۔مگر جہاں تک اس کے دینے اور اُسے ثواب ملنے کا تعلق ہے جب یہ دونوں باتیں ہو چکیں تو اس کے بعد اسے کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے کہ اس کا روپیہ کالا چور لے جاتا ہے یا کالا کتا لے جاتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کے نام پر ہم نے کچھ روپیہ دے دیا اور خدا تعالیٰ نے اس کی قیمت ہمیں ادا کر دی تو اب وہ ہماری چیز کہاں رہ گئی۔پس ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ ہمارا مال ضائع ہو گیا یا فلاں چیز ہماری تھی وہ کہاں خرچ کی گئی۔گزشتہ دنوں اس کی ایک مثال ہمارے گھر میں بھی پیدا ہوگئی۔باہر کی ایک لڑکی ہمارے گھر میں آئی ہوئی تھی۔وہ لڑکی ایک غریب آدمی کی تھی۔وَاللهُ أَعْلَمُ یہ سچ ہے یا