خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 674
خطابات شوری جلد دوم ۶۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء احکام طے کرنے کا حق حاصل ہے مگر دوسروں کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُس کی مجبوری کی وجہ سے اپنا قدم شریعت سے باہر لے جائیں۔یوں تو ہماری جماعت کی کوئی لڑکی کسی کالج میں پڑھے یا نہ پڑھے اگر وہ گجرات یا جہلم میں بیمار ہوگی اور کسی مرد ڈاکٹر سے علاج کرانے پر مجبور ہوگی تو اُسے کوئی گناہ نہیں ہو گا۔لیکن اگر ہم اس نظیر کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے اپنی لڑکیوں کو مخلوط تعلیم دلانا شروع کر دیں اور شرعی احکام کو نظر انداز کر دیں تو چونکہ ہمارے لئے کوئی مجبوری نہیں ہوگی اس لئے یقینا گنہگار ہوں گے۔پھر یہ بھی غور کے قابل بات ہے کہ اگر یہ درست ہے کہ ہماری جماعت کی لڑکیاں اسی مجبوری کی وجہ سے ڈاکٹری تعلیم حاصل کرتی ہیں اور ان کے مد نظر یہ ہوتا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے جماعت کی عورتوں کی خدمت کریں گی تا کہ مرد ڈاکٹروں سے انہیں علاج نہ کرانا پڑے تو پھر کم از کم کوئی ایک مثال ہی ایسی ہونی چاہئے تھی کہ کسی نے تعلیم حاصل کی اور پھر اُس نے جماعت کی عورتوں کی خدمت کی۔اُس نے مفت کام کیا اور یہ پسند نہ کیا کہ وہ فیس لے اور اس طرح اپنی جماعت کی مستورات پر بوجھ ڈالے۔لیکن ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ وہ ہمارے لئے پڑھ رہی ہیں۔وہ اپنی ترقی کے لئے یا روپیہ کمانے کے لئے پڑھ رہی ہیں جماعت کی خدمت کے لئے نہیں پڑھ رہیں۔پس یہ دوسرا دھوکا ہے جو ان کی طرف سے دیا جاتا ہے کہ ایک تو وہ شریعت کی بے حرمتی کرتی ہیں اور دوسری طرف وہ یہ کہتی ہیں کہ ہم تمہارے غم میں مری جا رہی ہیں۔ہم تو اس لئے ھ رہی ہیں کہ مرد ڈاکٹروں کے سامنے جماعت کی مستورات کو بے پرد نہ ہونا پڑے۔ہر شخص جانتا ہے کہ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔وہ بھی اس بات کو جانتا ہے جو اپنی لڑکیوں کو تعلیم دلاتا ہے اور لڑکیاں بھی اس بات کو خوب بجھتی ہیں کہ وہ محض اپنے خاندان کا سٹینڈرڈ بڑھانے کے لئے یا روپیہ کمانے کے لئے تعلیم حاصل کر رہی ہیں مگر کہا جاتا ہے کہ وہ عورتوں کی خدمت کے لئے تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔عورتوں سے حسن سلوک کی تلقین احسان صاحب نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ لڑکیوں کے متعلق یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ مرد اُن پر کس قدر ظلم کرتے ہیں۔یہ بات صحیح ہے اور ضروری ہے کہ جہاں عورتیں اس امر کو