خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 609

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء ہے اور ایسے اخراجات وہ ایک دن میں پورے کر سکتی ہے کوئی ایسا لٹریچر تیار کرا کے پیش کیا جاتا تو میں حلقہ مسجد مبارک سے ہی چندہ کر کے پورا خرچ اس کے لئے مہیا کر سکتا تھا مگر ضروری ہے کہ کوئی چیز سامنے پیش ہو۔“ تیسرادن چندہ وصیت کی واپسی کا سوال مجلس مشاورت کے تیسرے دن ۱٫۵ پریل ۱۹۴۲ء کو سب کمیٹی نظارت علیاء کی رپورٹ میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ:- د, حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منظور فرمودہ قاعدہ نمبر ۱۲ مندرجہ ضمیمه متعلقه رساله وصیت و قاعدہ نمبر ۶ مندرجہ روئدادا جلاس ۲۹ جنوری ۱۹۰۶ ء کی روشنی میں یہ ظاہر ہے کہ ایسے موصی کو جس کی وصیت ان قواعد کی رو سے منسوخ کی جائے چندہ عام مشمولہ حصہ آمد لینے کا حق نہ ہوگا۔اس کے مطابق وصیت کے طبع شدہ فارم میں تبدیلی کر دی جائے۔اس تجویز پر تفصیلی بحث کے بعد حضور نے فرمایا: - قواعد وصیت میں ترمیم اس وقت اس وقت جو تجویز وصیت کے متعلق پیش ہے وہ بہت پیچیدہ صورت اختیار کر گئی ہے کہیں تو اس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقرر کردہ قواعد میں ہمیں تبدیلی کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ کہیں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وصیتی مال کے معنے کیا ہیں؟ اور پھر ان معانی میں اختلاف کیا گیا ہے۔سب سے پہلے میں یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ درحقیقت یہاں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا کہ ہمیں وصیت کے قواعد کو تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ کیونکہ کوئی احمدی بھی یہ نہیں کہتا کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقرر کردہ قواعد تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے۔سوال صرف یہ ہے کہ قواعد کے بعض حصے ایسے ہیں