خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 597
خطابات شوری جلد دوم ۵۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء اس سے بھی اُن لوگوں کی ذہنیت کا اندازہ ہو سکتا ہے لیکن جب حضرت موسی کے معجزہ نے ان کو مغلوب کر دیا اور ان پر ظاہر ہو گیا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو فوراً ایمان لے آئے۔یہاں تک تو دلیل کی بات تھی جو انہوں نے مان لی مگر آگے تربیت کا حصہ ہے۔فرعون نے ان کو دھمکی دی کہ میں تمہیں بہت اذیت دوں گا بلکہ یہاں تک کہا کہ صلیب پر لٹکا دوں گا کیونکہ تم لوگوں نے مجھے ذلیل کرایا ہے۔تو دیکھو وہی لوگ جو ایک منٹ پہلے کہہ رہے تھے کہ اچھا مولا خوش کریں گے تو دلاؤ گے کیا ؟ وہ فرعون کی اس دھمکی کے جواب میں کہتے ہیں کہ اگر تو ہمیں پھانسی بھی دے دے گا تو کیا ، تو ہماری جان ہی لے سکتا ہے اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہے۔تو یہ تربیت ایمان کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک بڑھیا عورت کو ایک پیسہ کا خط اس کا کوئی عزیز لکھتا ہے تو وہ جب تک اسے سات مختلف لوگوں سے پڑھوا کر نہ سن لے اُسے چین نہیں آتا لیکن قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس کے پڑھنے کی طرف مسلمانوں کو کوئی توجہ نہیں۔پس اپنے دلوں میں ایمان پیدا کرو۔اگر دل میں ایمان پیدا ہو جائے تو تعلیم و تربیت خود بخود درست ہو جاتی ہے۔پس میری آپ لوگوں کو پہلی اور آخری نصیحت یہی ہے کہ اپنے دلوں میں ایمان پیدا کرو۔اپنی اور اپنی اولادوں کی تعلیم و تربیت کا خود فکر کرو محکمے اور ناظر وغیرہ یہ کام نہیں کر سکتے۔“ مبلغین تبلیغ کے علاوہ تعلیم و تربیت کا کام بھی کریں سب کمیٹی نظارت تعلیم وتربیت کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ :- جماعت کی دینی تعلیم و تربیت کی اہمیت اور مبلغین سلسلہ کے اس طرف کماحقہ توجہ نہ دے سکنے کی وجہ سے کم از کم دو انسپکٹر نظارت ھذا 66 کے لئے منظور کئے جائیں۔“ بعض ممبران مشاورت کے اظہار خیال کے بعد حضور نے مبلغین کے کام کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :-