خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 582
خطابات شوری جلد دوم ۵۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء کی طرف سے جو مبلغ مقرر تھا اُسے انگریزوں نے آجکل نظر بند کر رکھا ہے اس طرح تحریک جدید کے چار مبلغ ایسے ہیں جو اس وقت یا تو قید ہیں یا ان کے متعلق نظر بندی کی حالت کا ہم امکان سمجھتے ہیں۔پھر خطرات جنگ کے لحاظ سے ہم یقینی طور پر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان کی جانیں بھی محفوظ ہیں یا نہیں پس ان تمام مبلغین کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھو۔اسی طرح ہمیں اپنی دعاؤں میں ان لوگوں کو بھی یا درکھنا چاہئے جنہوں نے ہمارے مبلغین کی آواز پر احمدیت کو قبول کیا اور اپنے آپ کو اس جماعت میں شامل کر دیا۔ایسے لوگ ان ممالک میں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور ان میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے دین کی خدمت اور اس کی اشاعت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں۔پس آؤ ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا فضل نازل فرمائے اور وہ اپنی تائید اور نصرت ہمارے شامل حال رکھے۔پھر ہمیں یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے صرف ہم ہی وارث نہ ہوں بلکہ ہمارے وہ بھائی بھی وارث ہوں جو آ جکل سماٹرا، جاوا اور ملایا وغیرہ میں ہیں۔اسی طرح ہمیں اُن کے رشتہ داروں اور دوستوں کے متعلق بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں کو مضبوط کرے اور انہیں وہ مومنانہ ثبات و استقلال عطا کرے جو مصیبت اور تکلیف کی گھڑیوں میں اُس کے بندوں کو حاصل ہوتا ہے۔“ افتتاحی تقریر تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:- 66 خطبہ جمعہ میں میں بتا چکا ہوں کہ دس بارہ دن کے عرصہ میں مجھ پر انفلوئنزا کا دو دفعہ حملہ ہو چکا ہے دوسرے حملہ کو ابھی چار پانچ دن ہی ہوئے ہیں۔اس دوران میں مجھے عزیزم منیر احمد کی شادی کی تقریب میں حصہ لینا پڑا جس کی وجہ سے میری تکلیف بہت بڑھ گئی اور اب بھی میرے لئے کھڑا ہونا اور کوئی لمبی تقریر کرنا مشکل ہے اس لئے میں اس وقت کوئی تقریر کرنا نہیں چاہتا۔صرف دوستوں کے سامنے سب کمیٹیوں کے ممبروں کے انتخاب میں احتیاط کمیٹیوں کے ممبروں کے انتخاب کا مسئلہ پیش کرتا ہوں۔ہاں اختصار کے ساتھ اس قدر کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ