خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 567
خطابات شوری جلد دوم ۵۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء کی چالاکیوں کو خوب جانتا ہوں۔ہم سب لوگ دیر تک اُس کے اس فقرہ پر ہنستے رہے۔اب منیر کو کبھی یہ بات یاد کرائی جاتی ہے تو وہ بڑا شرمندہ ہوتا ہے۔تو اِس قسم کی کئی کھیلیں ہیں جو ہم کھیلتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے بچپن میں کئی کھیلیں کھیلیں اور ہمیں بعض کھیل دیکھنے کے لئے بھجواتے رہے اور بعض دفعہ مداریوں کا تماشہ گھر کے دروازہ پر بچوں کے دیکھنے کے لئے اجازت دی۔پس کھیلوں میں حصہ لینا نہایت ضروری ہوتا ہے۔اگر بچے کھیلوں کی طرف توجہ نہ کریں تو مجھے شبہ ہوتا ہے کہ اُن کی اخلاقی حالت اچھی نہیں ہوگی۔پس میرا اطفال الاحمدیہ کی تنظیم سے یہ مطلب نہیں کہ کھیلیں اُڑا دی جائیں بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ انہیں پہلے سے بھی زیادہ کھیلوں میں حصہ لینے کے لئے کہو اور سب قسم کی کھیلوں سے انہیں روشناس کرو تا کہ ان کی معلومات زیادہ ہوں۔انگریزوں میں اس قسم کی عام واقفیت ہوتی ہے لیکن ہندوستانیوں میں سے کئی مداری کے کھیل کھیلنے کے بعد کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ ضرور کرامت ہے۔لیکن اگر انہیں خود بھی کھیلیں آتی ہوں تو وہ قیاس کر لیں گے کہ جیسے ہمیں کھیلیں آتی ہیں اسی طرح یہ بھی کھیلیں دکھا رہا ہے، حیرت اور استعجاب ان میں پیدا نہیں ہوگا۔پس کھیلوں میں حصہ لینا عقل کو تیز کرتا ، ذہانت کو بڑھاتا اور افسردگی کو دور کرتا ہے۔مگر کھیلوں میں اطفال کی نگرانی کرنا یہ خدام الاحمدیہ کا کام ہے۔خدام الاحمدیہ کے دیگر فرائض اسی طرح خدام الاحمدیہ کو اس بات کی بھی نگرانی کرنی چاہئے کہ بچے بُری صحبت میں مبتلا نہ ہوں اور نیک محبت انہیں حاصل رہے۔یہ کام ہے جو ہر جگہ اور ہر وقت ہونا چاہئے اور اس میں کسی قسم کی سستی نہیں ہونی چاہئے۔اسی طرح خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ دینی اور تمدنی کاموں میں حصہ لینے کی تحریک بجائے اس کے کہ بڑی عمر کے لوگ انہیں کریں ان کے ہم عمر ہی انہیں ان کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دے دیا کریں۔اگر بڑی عمر کے لوگ یہ کہیں کہ نمازیں پڑھو تو ممکن ہے وہ اس پر کسی قدر بُرا منائیں لیکن اگر ہم عمر کہیں گے کہ نمازیں پڑھو تو وہ اس تحریک کو زیادہ جلد قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے اور چونکہ وہ آپس میں لڑ جھگڑ بھی لیتے ہیں اس لئے ان میں افسردگی اور مُردنی پیدا نہیں ہوسکتی۔