خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 539

۵۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوریٰ جلد دوم میں ہوئے ان میں سے ہیں لڑکے غیر احمدی ہو گئے اور اسی لڑکیاں احمدی ہو گئیں۔تو ہمارے لئے ان استی لڑکیوں کا احمدی ہونا اتنا مفید نہیں جتنا ہمیں احمدیوں کا غیر احمدی ہو جانا مضر ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ہمارے ہاتھ میں دیا ہے زیادہ لینے کے خیال سے اس کے قلیل حصہ کو بھی خطرہ میں ڈالنا جائز نہیں۔ہمارا فرض یہی ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں اُن کے ایمانوں کی حفاظت کریں۔یہ ہماری کامیابی نہیں ہوگی کہ ہم ۹۹ غیر احمد یوں میں سے جیت لائیں اور ایک اپنے میں سے اُن میں جانے دیں۔ایمانی جذبہ کا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ ہم اس ایک کو نہ جانے دیں خواہ ۹۹ آ ئیں یا نہ آئیں۔پس ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کثرتِ رائے کے فیصلہ کو درست قرار دیتا ہوں۔“ 66 الفضل پر اعتراضات کے جوابات روزنامہ الفضل قادیان کے بارہ میں ایک تجویز پر بحث کرتے ہوئے بعض احباب نے کچھ باتیں ناقدانہ رنگ میں کہیں۔حضور نے اس سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :- الفضل کے متعلق بعض باتیں کہی گئی ہیں جن میں سے بعض تو غیر متعلق ہیں۔یہ تو ہوسکتا تھا کہ انہیں بطور تجویز نظارت میں بھیج دیا جاتا یہاں ان کے پیش کرنے کا موقع نہ تھا۔بعض باتیں جو کہی گئی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔بار بار کہا گیا ہے اور اس پر بہت زور دیا گیا ہے کہ یہ ایک پیسہ کا اخبار ہے جو تین پیسہ میں فروخت ہوتا ہے۔میں اس اعتراض کو اُس وقت تک تسلیم نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ دوست جن کا یہ خیال ہے یہاں قادیان میں اسے ایک پیسہ میں تیار کر کے نہ دکھا ئیں۔اصل خرچ تو کاغذ، کتابت ، طباعت اور سیاہی وغیرہ کا ہوتا ہے اور ایسے ہی کاغذ پر اور ایسی طباعت کے ساتھ اگر وہ ایسا اخبار ایک پیسہ میں تیار کرا دیں تو میں اس اعتراض کو درست مان سکتا ہوں۔باقی رہی یہ بات کہ دہلی میں یا لا ہور میں چھپ سکتا ہے ممکن ہے یہ صحیح ہو مگر ہم اسے نہ تو دہلی سے شائع کر سکتے ہیں اور نہ لا ہور سے۔وہ دوست یہاں ایک ہفتہ ٹھہریں، میں تمام انتظام اُن کے سپر د کرادوں گا اور ہ یہاں ایک پیسہ میں ایسا اخبار تیار کرا دیں۔پھر ان کو اِس اعتراض کا حق ہوگا اور وہ کہہ سکیں گے کہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے ورنہ یونہی اعتراض کر دینا کوئی مشکل امر نہیں۔وہ