خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 530
۵۳۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم کی بعثت کی غرض ہی یہ تھی کہ لوگوں کے قلوب میں خشیت اللہ پیدا کریں۔اور چاہئے کہ ہماری ہر بات میں سنجیدگی ہو۔ہمارے چہروں سے سنجیدگی ظاہر ہو اور ہمارے حالات ایسے ہونے چاہئیں کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ احمدی جو کچھ کہتے ہیں سنجیدگی سے کہتے ہیں مذاق سے دینی باتیں نہیں کرتے۔اگر لوگوں پر ہم یہ اثر قائم کر لیں تو یہ بات تبلیغی لحاظ سے بھی بہت مفید ہو سکتی ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ کوئی مجھ سے بات چیت کرنے آتا ہے اور مسئلہ وغیرہ پوچھتا ہے تو بعض نادان احمدی اُس کی لاعلمی کی باتوں کوسن کر ہنتے اور قہقہے لگاتے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں خشیت اللہ نہیں۔۔بیعت کے وقت سنجیدگی بعض احمدی بیعت کے وقت ہنستے رہتے ہیں۔یہ بھی سراسر نادانی کی بات ہے۔بیعت کا وقت تو نہایت سنجیدگی کا وقت ہوتا ہے۔یہ تو نئی پیدائش کا وقت ہوتا ہے خدا جانے جو بیعت کر رہا ہے کس نیت اور کس ارادہ سے کر رہا ہے۔اگر تو وہ نیک نیتی سے بیعت میں شامل ہو رہا ہے تو بھی یہ ایک اہم وقت ہے، اس کی نئی پیدائش ہو رہی ہے اور اگر فتنہ اور منافقت کی نیت سے کر رہا ہے تب بھی یہ خطر ناک وقت ہے۔جو لوگ بیعت کے وقت باتیں کرتے یا ہنستے ہیں میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کس طرح ایسا کرنے کی جرات کرتے ہیں۔میری تو یہ حالت ہے کہ بچپن سے ہی جب میں کسی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرتے دیکھتا تو بدن پر رعشہ طاری ہو جاتا اور ہمیشہ یہ محسوس کرتا کہ یہ نہایت سنجیدگی کا وقت ہے مگر آجکل میں نے دیکھا ہے بعض لوگ نہایت بے باکی سے بیعت کرتے وقت باتیں کرتے یا ہنستے رہتے ہیں حالانکہ یہ وقت ایک نئے بچہ کی پیدائش کے وقت کے مشابہ ہوتا ہے اور جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اسے کیا معلوم کہ وہ اس کے لئے بھلائی کا موجب ہوگا یا مصائب کا۔پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر سنجیدگی اور متانت پیدا کریں۔ہماری جماعت کو بہت تربیت کی ضرورت ہے اور یہ ایک دوسرے کو سمجھانے سے ہی ہو سکتی ہے۔مسائل ایک دوسرے کو سمجھائیں مگر میں نے یہ نقص بھی جماعت میں دیکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو مسائل سمجھاتے نہیں۔یہ ضروری نہیں ہوتا کہ بڑے بڑے علماء ہی بات کو صحیح طور پر سمجھ سکیں اور دوسرے نہ سمجھیں بعض دفعہ