خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 503
خطابات شوری جلد دوم ۵۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء ایک دفعہ ایک مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بہت بڑا تعریفی کلمہ یہ استعمال کیا کہ ؎ بعد از علی بزرگ توئی قصہ مختصر کہ حضرت علی کے بعد آپ کا ہی مقام ہے۔چونکہ امت محمدیہ میں اس قسم کے لوگوں نے بھی پیدا ہونا تھا جنہوں نے لوگوں کی ہمتوں کو پست کر دینا تھا، ان کی امنگوں کو کچل دینا تھا، ان کے حوصلوں کو دبا دینا تھا، ان کی خواہشات کو مُردہ بنا دینا تھا اور آسمانِ روحانی کی فضاء میں اڑنے والے پرندوں کو پنجروں میں محبوس کر دینا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پنجروں کی تیلیوں کو توڑ دیا، ان کے دروازں کو کھول دیا اور فرمایا میں نہیں جانتا میری اُمت کا پہلا حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ۔اس طرح آپ نے یہ اعلان کر دیا کہ اے میرے امت کے لوگو! اگر تم ابو بکر سے اوپر اڑنا چاہو تو تم ابو بکڑ سے بھی اوپر اڑ سکتے ہو، اگر تم عمرؓ سے اوپر اُڑنا چاہو تو تم عمر سے بھی اوپر اڑ سکتے ہو، اگر تم عثمان سے اوپر اُڑ نا چاہو تو تم عثمان سے بھی اوپر اڑ سکتے ہو اور اگر تم علی سے اوپر اُڑنا چاہو تو تم علی سے بھی اوپر اڑ سکتے ہو میں نے تمہارے لئے دروازہ کھول دیا ہے۔اب اگر تم خود باہر نکل کر فضائے آسمانی میں نہ اُڑ و تو یہ تمہارا قصور ہے میرا قصور نہیں۔حضرت ابوبکر کی خدمات پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر وہ احسان کیا ہے جس کی کوئی حد نہیں کیونکہ ظاہری طور پر وہ لوگ جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی وجود کے ساتھ مل کر اعلاء کلمتہ اللہ میں عمر بسر کی اس بات کا حق رکھتے تھے کہ انہیں انعامات کا اولین حق دار قرار دیا جاتا اور بعد میں آنے والوں کو اُن کے نیچے رکھا جاتا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا حالانکہ اُس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ابوبکر کے کام کی جو عظمت تھی وہ کسی اور کے کام کی عظمت نہیں تھی۔آپ جانتے تھے کہ کس طرح ابتداء سے یہ میرے ساتھ رہا اور کس طرح اس نے میری اعانت اور فرمانبرداری میں اپنے آپ کو بالکل مٹا ڈالا۔چنانچہ وہ جذبات کی کیفیت جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمات سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پیدا تھی اُس کا اِس بات سے ثبوت ملتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ میں