خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 502
۵۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء خطابات شوری جلد دوم کر ہمیں اس کے انعامات حاصل ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی آدمی پیدا نہیں ہو سکتا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جو بھی اصلاح ہوگی وہ دراصل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کی ہی تأثیر ہو گی لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری جماعت کو اپنی جماعت قرار دیا ہے۔احمق اور نادان کہتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو صحابہ کا مثیل کہتے ہو مگر ہم ان احمقوں اور نادانوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم ابو جہل کے مثیل بن سکتے ہو تو ہم ابوبکر اور عمرہ کے مثیل کیوں نہیں بن سکتے۔اور پھر ہم تو وہی کچھ کہتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔آپ نے ایک دفعہ صحابہ کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا میں نہیں جانتا میری اُمت کا پہلا حصہ زیادہ اچھا ہے یا آخری حصہ زیادہ اچھا ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ جس امید اور یقین کے ساتھ بھرے ہوئے ہیں وہ ان الفاظ سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہو رہی ہے۔آپ نے ان الفاظ کے ذریعہ تم کو مخاطب کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اے میرے آخری زمانہ کے صحابہ! اگر تم اپنے مقام اور درجہ میں پہلے صحابہ سے بڑھنا چاہتے ہو تو تم بڑھ سکتے ہو کیونکہ تمہارے لئے بھی ویسا ہی راستہ کھلا ہے جیسے ان کے لئے کھلا تھا۔اگر تم بڑھو تو تم بڑھ سکتے ہو اور اگر تم نہ بڑھو تو یہ تمہاری اپنی کوتا ہی ہوگی ورنہ راستہ تمہارے لئے کھلا ہے۔انعامات تمہارے سامنے ہیں اور تم اگر چاہو تو تم پہلوں سے بھی آگے نکل سکتے ہو۔کس قدر امید افزا الفاظ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے کہ میں نہیں جانتا میری اُمت کا پہلا حصہ اچھا ہے یا آخری حصہ اچھا ہے۔ان الفاظ کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کی جماعت کی ہمت کو بلند کر دیا اور آپ نے انہیں بتایا کہ تم مت سمجھو کہ جس قدر درجات تھے وہ پہلے لوگ لے چکے اتنے ہی درجات خدا تعالیٰ کے پاس تھے۔یہ نہیں بلکہ تمہارے لئے بھی ان مقامات کے حصول کا دروازہ کھلا ہے اور تم اگر چا ہو تو نہ صرف ان مقامات کو حاصل کر سکتے ہو بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ سکتے ہو۔لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ تمام درجات اپنے باپ دادا کو دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ان سے بڑا کوئی نہیں ہو سکتا۔پیغامیوں کو بھی یہی ٹھوکر لگی اور انہوں نے اور تو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجہ کو بھی گھٹانے کی کوشش کی۔چنانچہ ایک غیر مبائع نے