خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 36
خطابات شوری جلد دوم ۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء جگہ جمع ہو کر ایک ہی قسم کا کام کریں۔نماز میں احمدی بے شک اکٹھے ہوتے ہیں مگر وہ عبادت کی جگہ ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اکٹھے مل کر کام بھی کریں تا کہ سب یہ سمجھیں کہ ہم ایک ہی جیسے ہیں۔یہاں یہ کام شروع کیا گیا ہے، راستے ٹھیک کئے جاتے ہیں، گڑھوں میں مٹی ڈالی جاتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ باہر بھی اس قسم کے کام دوست مل کر کریں۔یہاں راستوں کی درستی کے بعد یہ نیت ہے کہ شہر کی صفائی کی جائے ،خود روڑیاں اُٹھائی جائیں۔خدا تعالیٰ نے جس کو جس مقام پر رکھا ہے وہ اُس پر رہے لیکن اصل میں ہم سب ایک جیسے انسان ہیں اور ہمیں عملی طور پر اس کا اقرار کرنا چاہئے کہ سب برابر ہیں تا کہ ایک چوہڑا بھی محسوس کرے کہ بڑے سے بڑا درجہ رکھنے والے بھی انسانیت میں میرے برابر ہیں۔جب تک ہماری جماعت کے ہر فرد میں یہ روح نہ پائی جائے وہ اسلامی برادری قائم نہیں ہو سکتی جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے اور جس کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے دین آیا ہے۔دین کی غرض جہاں یہ ہے کہ وہ روحانیت کو اُبھارے اور بلند کرے وہاں یہ بھی ہے کہ جسمانیت کو گرائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے، پس خوف کا مقام ہے۔اس کا یہ بھی مفہوم ہے کہ جماعت احمدیہ کو جو ذلیل سمجھی جاتی ہے اسے خدا تعالیٰ بڑھائے گا اور ترقی دے گا اس کے مقابلہ میں دشمنوں کو گھٹائے گا اور ذلیل کرے گا لیکن اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ تمام لوگوں کو ایک سطح پر لے آئے گا۔جو بڑے ہیں انہیں نیچے اور جو چھوٹے ہیں انہیں اوپر اٹھا کر برابر کر دے گا۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں ذلت سمجھی جاتی ہے، خاص کر مشقت کا کام کرنا اور مزدوروں کے رنگ میں کام کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور جس کام کی عادت نہ ہو اُس کا کرنا دوبھر ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بوجہ شدید مخالفت کے ہمیں باہر جانے کی اجازت نہیں دیا کرتے تھے اس لئے خرید و فروخت کے معاملہ سے ہم بالکل نابلد تھے۔ایک دفعہ ایک عورت نے جو ہمارے گھر میں مہمان آئی ہوئی تھی دو پیسے اور گلاس دیا کہ دُکان سے جا کر دودھ لا دو۔مجھے یاد ہے کہ یہ سن کر میرے کان اور آنکھیں انگارے کی