خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 35
خطابات شوری جلد دوم ۳۵ مشاورت ۱۹۳۶ء کا حیرت کے ساتھ بیان ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ اس پر جس قدر عمل کر رہے ہیں اُتنا سکیم کی کسی اور شق پر نہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ ابھی اس کی طرف توجہ کرنے کی اور ضرورت ہے۔مغربیت کے حملہ کی ایک صورت پر تکلف زندگی بھی ہے اس سے وہ ہمارے اندر گھن لگا رہا ہے اور ہم جس قدر اس سے دُور ہوں گے اُسی قدر اپنی طاقت کو بچا سکتے ہیں۔کپڑوں کا اچھا ہونا اور سر کا بنانا بھی ایک حد تک جائز ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفائی اور قلبی صفائی کا کیا لطیف رنگ میں مقابلہ کیا ہے۔فرمایا کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے سر کے بال بکھرے ہوتے ہیں اور اُن کے چہروں پر مٹی پڑی ہوتی ہے لیکن اگر وہ کسی بات پر قسم کھا لیں تو خدا تعالیٰ نہیں صبر کرتا جب تک اُسے پورا نہ کر لے تو ہمارے لئے خصوصاً ایسے وقت میں جب کہ جنگ عظیم کے لئے ہم تیاری کر رہے ہیں ایسا موقع کہاں ہے کہ ان باتوں کے پیچھے پڑیں۔کچھ دنوں کی بات ہے کہ میں نے اپنی ایک عزیز کو روتے دیکھا۔اُس وقت بے ساختہ مجھے خیال آیا اور میں نے اُسے کہا کہ ہماری موجودہ حالت ایسی نہیں کہ جو ہمیں رونے کی بھی اجازت دے۔ہمیں رونے کی کب فرصت ہے۔کیا تم نے کبھی سنا کہ لڑائی میں لڑتے ہوئے کوئی سپاہی رونے کی فرصت نکال سکا۔ہم تو دنیا میں اسلام کے لئے لڑنے اور مرنے کے لئے ہیں۔رونا بھی چونکہ عیش کے سامانوں میں سے ایک سامان ہے اس لئے یہ ہمیں میسر نہیں اور اس میں کیا قبہ ہے کہ ظاہری حالات کے لحاظ سے ہم ایسے مغلوب اور اتنے ستم رسیدہ ہیں کہ کئی باتیں جو اوروں کے لئے جائز ہیں وہ ہمارے لئے منع ہیں۔کجا وہ چیزیں استعمال کرنا کہ جن قوموں کو عروج حاصل ہوتا ہے جب وہ بھی استعمال کرتی ہیں تو تنزل کے گڑھے میں گرنے لگ جاتی ہیں۔(۸) ایک اور بات جو اس سکیم سے تعلق رکھتی ہے وہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنا ہے۔جب تک یہ نہ ہو اُس وقت تک اسلام جو برا دری قائم کرنا چاہتا ہے قائم نہیں ہو سکتی۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص موٹر میں بیٹھا جارہا ہو، اُس کی کوٹھی پر پہرے لگے ہوں ، دوسرے لوگوں کا اُس کے قریب پہنچنا بھی مشکل ہو، اُس کی کسی صورت میں ایک مزدور برابری کر سکے۔یہ اُسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ وہ کسی نہ کسی وقت ایک