خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 487
خطابات شوری جلد دوم ۴۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء طرح مصفے اور بے عیب شکل میں پیش کیا جیسے منوں مٹی کے نیچے سے کوئی چیز نکال کر اُسے گردوغبار سے صاف کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر دی جائے۔اسی طرح وہ بخاری اور مسلم جن کو بالکل بے اثر سمجھا جاتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو زبر دست ہتھیاروں کی شکل میں بدل دیا۔اور اگر ہم یہ ہتھیار استعمال نہیں کرتے تو بتاؤ اس سے ہمیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے اور کیونکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک تیز تلوار کی حیثیت رکھتے ہیں۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے لئے زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے اس کے لئے مستقل ارادے اور مصمم عزم کی ضرورت ہے۔سال میں ایک دفعہ جمع ہونا اور بعض تجاویز کے متعلق ووٹ دے دینا یہ محض ایک رسمی بات ہے اور یہ مشورے اپنی ذات میں چنداں مفید بھی نہیں ہوتے۔مشاورت کی اصل غرض میں اپنی ذات کے متعلق ہی جانتا ہوں کہ ان مشوروں میں سے کتنی باتیں ہیں جو مجھے سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔یہاں نمائندگان کی طرف سے جو باتیں پیش کی جاتی ہیں اُن میں بیشتر حصہ ایسی باتوں کا ہوتا ہے جن کو ہم پہلے ہی جانتے ہیں اور یا پھر وہ باتیں ہوتی ہیں جو بالکل غلط ہوتی ہیں مگر ہمیں غلط باتیں بھی سننی پڑتی ہیں کیونکہ اصل غرض اس قسم کی مجلس کے انعقاد اور باہمی مشوروں سے یہ ہے کہ ہمارے اندر یہ روح رہے کہ ہم مل کر کام کریں اور سلسلہ کی ترقی کی تجاویز میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔اگر یہ غرض حاصل نہیں ہوتی تو اس مجلس کا مقصد بالکل فوت ہو جاتا ہے۔یہ خیال کرنا کہ یورپ کی طرح ہم نے بھی اپنی ایک پارلیمنٹ بنالی ہے کسی صورت میں صحیح نہیں۔آخر ہم نے جو ساری دُنیا کو چھوڑا اور اپنے تعلقات لوگوں سے قطع کر کے ایک ایسے گوشہ میں آگئے جہاں دنیوی اعزازات اور دنیوی مفادات میں سے کوئی چیز بھی نہیں تو ہماری غرض یہ تو نہ تھی کہ ہم یورپین لوگوں کی کسی خاص بات میں نقل کریں بلکہ ہماری غرض یہ تھی اور یہی ہے کہ ہم اُس رستہ پر چلیں جس پر چلنے سے خدا خوش ہوتا ہے۔پس دُنیا خواہ کچھ کہے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہمارا خدا کیا کہتا ہے، ہمارا رسول کیا کہتا ہے، اور کس بات کے کرنے کی وہ ہمیں تاکید کرتا ہے۔اگر ہم اس کے بتائے ہوئے راستہ پر چل پڑتے