خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 481
خطابات شوری جلد دوم ۴۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء جائے گی۔حالانکہ ہمارا نقطۂ نگاہ کسی کتاب کا ترجمہ کرنا نہیں بلکہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ساری دنیا کو فتح کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیں۔بھلا یہ کام کوئی انجمن کر سکتی ہے؟ یہ کام تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے اور یا پھر وہ کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اپنے آپ کو بطور تلوار دے دے۔بے شک اچھی تلوار بھی مفید ہوا کرتی ہے لیکن اچھی تلوار کے ساتھ اچھے شمشیر زن کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور بے شک کُند تلوار اچھا کام نہیں کر سکتی لیکن بسا اوقات اچھے شمشیر زن کے ہاتھ میں جا کر کند تلوار بھی بہت کچھ کام کر سکتی ہے لیکن اگر تلوار بھی اچھی ہو اور تلوار چلانے والا بھی اپنے کام میں خوب ماہر ہو تو پھر تو وہ تلوار اس شمشیرزن کے ہاتھ میں ایسے ایسے کمالات کا نمونہ دکھایا کرتی ہے کہ دنیا انہیں دیکھ کر محو حیرت ہو جاتی ہے۔ہمارا شمشیر زن تو خدا ہے جس کے کامل اور تمام صفات حسنہ کے جامع ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ساری طاقتیں اُسی کو حاصل ہیں اور وہ جو چاہے پل بھر میں کر سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب وہ اپنے بندوں کے ذریعہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ان بندوں کو تلوار کا مقام دے دیتا ہے اور تلوار جتنی اچھی ہوگی اُتنا ہی اس کے ذریعہ تغیر رونما ہو گا۔اگر اچھی تلوار ہوگی تو اس کے ذریعہ جلد تغیر پیدا ہو جائے گا اور اگر گند تلوار ہوگی تو گو پھر بھی اس وجہ سے کہ وہ گند تلوار خدا کے ہاتھ میں ہے ہم یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں تغیر پیدا ہونے سے نہیں رک سکتا، مگر بہر حال تیز تلوار کی نسبت وہ تغیر زیادہ دیر میں ہوگا۔دو مقاصد مد نظر رکھیں پس دو مقاصد ہیں جو ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنے چاہئیں اور ہمیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ جب تک ہم ان دونوں مقاصد کو پورا نہیں کریں گے حقیقی کامیابی ہمیں حاصل نہیں ہوگی۔ان مقاصد میں سے پہلا مقصد ہمیں اپنے مدنظر ہمیشہ یہ رکھنا چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو تیز تلوار بنا ئیں۔اگر ہم اپنے آپ کو تیز تلوار نہیں بناتے تو ہم اچھا کام بھی نہیں کر سکتے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ذہنوں کو روشن کریں، اپنی عقلوں کو تیز کریں، اپنے افکار کو بلند کریں، اپنے دماغوں کو اعلیٰ بنائیں اور اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کریں کہ دنیا ہمیں دیکھ کر یہ یقین کرے کہ ان کے ذریعہ کوئی عظیم الشان تغیر رونما ہو گا۔ہمارے سامنے وہ نقائص ہیں جن کی وجہ سے ہندوستانی عام طور