خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 480

خطابات شوری جلد دوم ۴۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کرنے لگ جاتے ہیں کہ جس منزل مقصود پر اُنہوں نے پہنچنا تھا وہ اُن کو حاصل ہو گئی۔گویا جب جشن منایا گیا تو ہماری جماعت کے بعض ناواقف لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اب خلافت کی ضرورت سب جہان پر ثابت ہو گئی ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت سب دنیا پر عیاں ہوگئی، عیسائیوں کو شکست ہوگئی ، ہندوؤں کا زور جاتا رہا، دہر بیت مٹ گئی ، کفر اور الحاد کی بنیادیں ہل گئیں اور اب سارے جہان پر نیکی ہی نیکی پھیل گئی ہے۔میں نے جماعت کے دوستوں کو بیدار کیا تھا مگر مجھے افسوس ہے کہ وہ بیداری جماعت میں پیدا نہیں ہوئی۔شاید یہ میری کسی کوتا ہی کا نتیجہ ہے یا شاید اللہ تعالیٰ جماعت کو اس رنگ میں ایک تازیانہ لگانا چاہتا تھا یا شاید دوستوں سے ہی اس بارہ میں سستی ہوئی ہے۔بہر حال میں نہیں جانتا اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے یا تم پر۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا مکر خیر ہے یا اس میں جماعت کے لئے کوئی ابتلاء پوشیدہ ہے مگر بہر حال واقعہ یہی ہے کہ جماعت سے سستی ہوئی اور میرے بیدار کرنے کے باوجود وہ بیدار نہیں ہوئی۔اصل بات یہ ہے کہ ہماری منزل ابھی بہت دور ہے اور ہمارا کام بہت وسیع ہے اور جو تغیرات ہم نے دنیا میں پیدا کرنے ہیں ان کے لئے ابھی بہت کچھ وقت درکار ہے۔بے شک میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ یہ تغیر یکدم واقعہ نہیں ہوگا کیونکہ مسیحیت کے ماتحت ہمیشہ آہستہ آہستہ تغیرات ہوا کرتے ہیں لیکن بہر حال اس تغیر کے تغیر عظیم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔وہ ایک انقلاب ہے اور عظیم الشان انقلاب لیکن بہر صورت وہ آہستگی سے ہوگا اس تیزی اور اس سُرعت سے نہیں ہوگا جیسے موسوی اور محمدی دور میں ہوا۔مگر اس عظیم الشان انقلاب کے لئے خواہ وہ آہستہ ہی کیوں نہ ہو دوستوں کو ابھی سے جد و جہد کرنی چاہئے۔میں نے اسی حکمت کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات چھپوائے تھے اور میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ وہ ان کو پڑھتے رہا کریں۔تا یہ امر ہر وقت ان کے سامنے رہے کہ وہ کیا کام ہے جو ان کے ذمہ ڈالا گیا ہے۔پیغامیوں کو بھی اسی وجہ سے ٹھوکر لگی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام بہت محدود تھا۔اگر لوگوں سے چندہ لے کر قرآن کریم کا ترجمہ شائع کر دیا جائے اور ایک کمیٹی بنادی جائے جو اشاعتِ اسلام کا کام سرانجام دیتی رہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض پوری ہو