خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 466
خطابات شوری جلد دوم ۴۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء جاتے ہیں کہ انجمن کی مالی مشکلات کے دور کرنے کے لئے پوری پوری کوشش کریں گے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔اگر میں بدظنی سے کام لوں تو کہہ سکتا ہوں کہ ان کے ایمانوں میں کمی ہے اور اگر حُسنِ ظنی سے کام لوں تو کہوں گا کہ جماعت میں اس سے زیادہ بوجھ اُٹھانے کی طاقت نہیں۔اور اس نقطہ نگاہ کے لحاظ سے بھی یہی مناسب ہے کہ فی الحال یہی صورت رہنے دی جائے کہ دونوں میں سے جو کوئی لینا چاہے لے لے۔اور جو پنشن لے اُس کا ذاتی پراویڈنٹ فنڈ مع منافع اسے بہر حال دے دیا جائے۔ہمارا فائدہ اس میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے الزام سے بچ سکیں گے ورنہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس بہت زیادہ روپیہ آ گیا ہے اور ہم کوئی تحسین چاہتے ہیں۔پس جو دوست اس امر کی تائید میں ہوں کہ سر دست اتنی ہی تبدیلی ہونی چاہئے کہ کارکنوں کو اختیار دیا جائے کہ چاہے پنشن لے لیں اور چاہے پراویڈنٹ فنڈ وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۲۸۲ / ا حباب کھڑے ہوئے۔فرمایا :- وو جو دوست میر صاحب کی ترمیم کے حق میں ہوں کہ پنشن لینے کے بعد اگر کوئی شخص جلد فوت ہو جائے تو بہر حال اُس کے پراویڈنٹ فنڈ کے برابر رقم اس کے ورثاء کو پوری کر دی جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر صرف ۸۶/ ا حباب کھڑے ہوئے۔فرمایا :- میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔دوسری ترمیم یہ ہے کہ آخری تین سال کی مستقل تنخواہ کی اوسط کا پچاس فیصدی پنشن ہو جو اس کے حق میں ہوں کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۲۶۲ را حباب کھڑے ہوئے اور چالیس فیصدی کے حق میں صرف ۳۰۔حضور نے فرمایا:- میں اکثریت کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔“