خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 458
خطابات شوری جلد دوم ۴۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء وہ فوت ہو گیا۔اب سوال یہ ہے کہ اس کی وصیت منظور کی جائے یا نہ کی جائے؟ سب کمیٹی کی تجویز یہ ہے کہ اگر تو اس کے ورثاء اس کی جائداد کا دسواں حصہ ادا کر دیں یا اگر وصیت آمد کی تھی اور وصیت تحریر کرنے کے بعد اتنا عرصہ وہ زندہ رہا کہ اُسے آمد ہوئی اور اس کا مارا حصہ اُس نے با قاعدہ ادا کر دیا تو اسے منظور کر لیا جائے۔اور اگر نہیں کیا تو اسے نامنظور کر دیا جائے۔میر صاحب کی ترمیم اس کے متعلق یہ ہے کہ یہ دونوں شرطیں غیر ضروری ہیں کیونکہ جو وصیت انجمن کے پاس بھی پہنچ جائے مگر موصی کے ورثاء اُس کی جائداد کا حصہ دینے سے انکار کر دیں یا وہ خود حصہ آمد ادا نہ کرے تو وصیت تسلیم نہیں کی جاتی۔اور جب یہ شرطیں پہلے ہی موجود ہیں تو اس صورت میں خاص طور پر ان شرطوں کو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔پس اس وقت اصل سوال یہ ہے کہ لوکل انجمن کے سپر د جو وصیت کی جائے اگر وہ دوسری شرائط وصیت کو پورا کرے تو اُسے منظور کر لیا جائے یا نہیں؟ جو دوست اس کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۲۴۷۔احباب نے اِس کی منظوری کے حق میں اور صرف ۷ نے اس کے خلاف رائے دی۔حضور نے فرمایا: - 66 فیصلہ میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔“ پنشن کا کمیوٹ شھدہ حصہ آمد سمجھا جائے گا؟ سیکرٹری صاحب بہشتی مقبرہ نے سب کمیٹی کی طرف سے دوسری تجویز پیش کی تو حضور نے فرمایا: - ب کمیٹی کی تجویز یہ ہے کہ جو شخص اپنی پنشن کا کوئی حصہ کمیوٹ کرالیتا ہے اُسے آمد سمجھا جائے لیکن اگر وہ شخص عمر بھر اپنی پوری پنشن کا حصہ آمد ادا کرتا رہے تو بے شک اسے جائداد تصور کر لیا جائے۔جو دوست اس کے متعلق اظہار خیال کرنا چاہیں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔“ چند ممبران کے اظہارِ خیالات کے بعد حضور نے فرمایا: - تجویز یہ ہے کہ کسی موصی کی پنشن کا وہ حصہ جس کا بدلہ یکمشت اسے لینے کی اجازت ہے اگر وہ اسے لے لیتا ہے تو اسے آمد قرار دیا جائے یا جائداد؟ جو دوست اس 66 رائے کے حق میں ہوں کہ اسے آمد قرار دیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔"