خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 440
خطابات شوری جلد دوم ۴۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء فیصلہ جات سال گزشتہ اور ان کی تعمیل کے متعلق رپورٹ پیش کی۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- ” ناظر صاحب اعلیٰ نے گزشتہ سال کے فیصلوں کے متعلق اپنی رپورٹ پڑھ کر سنائی ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ شور کی وجہ سے جو زیادہ تر لاؤڈ سپیکر کی خرابی کے باعث تھا دوستوں تک آواز پہنچی ہے یا نہیں؟ بہر حال اُنہوں نے اپنی رپورٹ سنا دی ہے اور ہم نے جو قریب بیٹھے تھے اسے سُن لیا ہے۔اس کے متعلق میں ایک بات تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آخری بات جو اُنہوں نے کتابوں کی اشاعت کے متعلق کہی ہے وہ صحیح طور پر رپورٹ نہیں کہلا سکتی۔فیصلہ یہ نہیں تھا کہ نظارت دوستوں میں تحریک کرے اور وہ روپیہ دیں جس سے کتب شائع کی جائیں۔ان کو یا تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ کتب شائع ہوئیں اور اگر نہیں ہوئی تھیں تو ان کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ روپیہ کا انتظام نہیں ہو سکا اس لئے شائع نہیں کی جاسکیں۔یہ بات کہ دوستوں میں روپیہ کے لئے تحریک کر دی گئی صحیح رپورٹ نہیں کہلا سکتی۔ایک اور امر اُنہوں نے مدرسہ احمدیہ میں داخلہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ کوشش کی گئی که حسب فیصلہ مشاورت داخلہ میں کامیابی ہو، مگر چونکہ نہ ہوسکی اس لئے اس فیصلہ کو تبدیل کرانا پڑا۔میں نے جہاں تک اس پر غور کیا ہے اس فیصلہ کی ناکامی کی وجہ یہی تھی کہ داخلہ کا معیار مڈل پاس کر دیا گیا تھا۔اور مڈل تک انگریزی مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہاں ٹھہر جانا مشکل ہوتا ہے۔طالب علم بھی اور والدین بھی سمجھتے ہیں کہ اب مڈل تک پہنچے ہیں تو انٹرنس تک ہی ختم کر لیں۔میری تجویز یہ تھی کہ داخلہ کا معیار انٹرنس رکھا جائے اور اگر یہ رکھا جاتا تو مڈل کی نسبت زیادہ کامیابی ہوتی۔اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ معیار خواہ مڈل ہوتا یا انٹرنس ، پہلے سال پوری کامیابی نہیں ہو سکتی تھی۔لازمی طور پر پہلے سال بہت کم لڑ کے داخل ہونے کے لئے آتے۔مگر آہستہ آہستہ انٹرنس پاس کرنے کے بعد آنے لگ جاتے۔مگر نظارت نے پہلے سال کی مشکلات کو دیکھ کر پریشانی کا اظہار کر کے تبدیلی کرالی۔ور نہ ہر تبدیلی پر کچھ نہ کچھ دقت ضرور ہوتی ہے۔بظاہر یہ بات سہل نظر آتی تھی کہ مڈل پاس کرنے کے بعد لڑکے سہولت کے ساتھ مل سکیں گے مگر حقیقت یہی ہے کہ جولڑ کا مڈل پاس کرے وہ خود بھی اور اُس کے ماں باپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ اب انٹرنس بھی کر لیا جائے۔