خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 420

خطابات شوری جلد دوم ۴۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء کہ یہ ہدایت تو صرف پچھلے سال کے لئے تھی اب اس پر عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے اب تو ہمارا قرضہ اتر چکا ہے۔حالانکہ اگر اعداد و شمار فرضی درج کرنے ہوں تو سارا بجٹ ہی فرضی بنایا جائے تا جماعت مطمئن تو رہے۔اب یا تو انجمن مجھے سمجھائے کہ یہ کس طرح ہے اور یا پھر اس امر کی ضمانت دے کہ اتنی رقم جمع کر کے دے گی۔میرے کان میں ایک آواز یہ بھی پڑی ہے کہ ناظر کلرکوں کے سپر د کر دیتے ہیں کہ جو چاہیں لکھ لائیں لیکن میں یہ کہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ بالکل غلط بیانی ہے۔میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اُنہوں نے خود سے تیار کیا ہے اور اس پر بہت محنت کی ہے۔نقص صرف یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی ذمہ داری نہیں سمجھی اور وہ موت ان کو نظر نہیں آئی جو سامنے کھڑی ہے۔ورنہ اُنہوں نے بجٹ کی تیاری پر مہینوں صرف کئے ہیں اور بڑی محنت کی ہے۔یہ صرف کو تاہ نظری کی وجہ سے نقائص رہ گئے ہیں۔“ اس پر حضرت میر محمد الحق صاحب نے کہا کہ اگر وصولی نہ ہو گی تو واپسی قرضہ بھی نہیں ہوگی۔حضور نے فرمایا۔پھر آپ چین اور اطمینان کا سانس کس طرح لے سکیں گے؟ جب تک قرضہ ادا نہ ہو گا ، آپ کو آرام کیسے آئے گا۔اگر تو یہ رقم کسی عمارت کی تعمیر کے لئے ہوتی تو اس کا علاج آپ اس طرح کر سکتے تھے کہ عمارت نہ بنواتے لیکن یہ تو کسی کا قرضہ ہے جو تقاضا کرے گا اور اسے بہر حال ادا کرنا ہو گا۔یہ حالات جماعت کے پیش کر کے میں پوچھتا ہوں کہ یہ بجٹ آمد جو تجویز کیا گیا ہے وہ جن دوستوں کو منظور ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۱۵۰ آراء اس کی منظوری کے حق میں اور ۹۸ خلاف تھیں۔حضور نے فرمایا:- " بہر حال اگر کثرتِ رائے یہی ہے کہ اسے منظور کیا جائے تو میں منظور کرتا ہوں لیکن جماعت کا فرض ہے کہ وہ اسے پورا کرے اور اگلے سال میں نمائندوں سے دریافت کروں گا کہ اُنہوں نے اسے پورا کیا ہے یا نہیں؟ اس کے بعد میں بجٹ خرچ کو لیتا ہوں۔یہ جس طرح پیش کیا گیا ہے جو دوست اسے 66 منظور کرنے کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“