خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 381

خطابات شوری جلد دوم ۳۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء روحانیت سے غلبہ کے زمانہ میں باوجود یکہ نبی پر ایمان لانے والے تھوڑے ہوتے ہیں، پھر بھی جب وہ دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے ہیں تو دشمن ہیبت سے لرز نے لگ جاتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خبر نہیں یہ کیا کر دیں گے۔وہ ہم اپنی جماعت کی طاقت کو خوب جانتے ہیں۔ہمیں اپنی جماعت کے اعداد و شمار کا بھی علم ہے اور ہم اپنی جماعت میں سے کام کرنے والوں کی قابلیت کو بھی خوب جانتے ہیں، اس کے مقابلہ میں ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں کی طاقت ہم سے بہت زیادہ ہے مگر ان پر ہماری جماعت کا رُعب اس قدر ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ ہر مہینے ایک دو ہندوؤں اور سکھوں کی ایسی چٹھیاں میرے پاس ضرور پہنچ جاتی ہیں کہ اگر ہمارے لئے کچھ روپیہ کا انتظام کیا جائے تو ہم مسلمان ہونے کے لئے تیار ہیں۔اسی طرح جب ہندو، مسلمانوں کا کوئی جھگڑا ہو، لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ احمدی کس طرف ہیں کیونکہ و خیال کرتے ہیں کہ احمدی جس طرف ہوئے وہ جیت جائیں گے۔یہی حال مسلمانوں کا ہے، باوجود اس کے کہ ہم قلیل التعداد ہیں ان کی نگاہ بار بار ہماری طرف اُٹھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ احرار بار بار اس امر کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے اور اس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جب الیکشن ہوا تو جس طرف احمدی ہوں گے وہ پارٹی جیت جائے گی حالانکہ احرار کے مقابلہ میں ہماری تعدا د ہے ہی کتنی۔ہمارے جس قدر مخالف ہیں وہ سب احراری ہیں، گو احراری وہ کہلاتے ہوں یا نہ کہلاتے ہوں۔تو ان تین زمانوں کے اندر اندر تغیرات پیدا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے اور میں جماعت کو کئی سالوں سے اس طرف توجہ دلا رہا ہوں مگر مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ وہ زمانہ جس میں ہمارے لئے ترقی کرنا مقدر ہے دن بدن تھوڑا ہوتا جا رہا ہے اور ضروری ہے کہ ہم اس زمانہ کے ختم ہونے سے پہلے پہلے دُنیا میں وہ نظام قائم کر دیں جس نظام کو قائم کرنا اسلام اور احمدیت کا مقصود ہے۔پس میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مجلس شوریٰ میں اُنہیں یہی مقصد اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے اور ہر بات میں مشورہ دیتے وقت یہی امر اُن کے سامنے رہنا