خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 380

خطابات شوری جلد دوم فتح میں تبدیل ہو گئی۔مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء تو اس قسم کے نظارے انفرادی طور پر بعد میں بھی نظر آ جاتے ہیں بلکہ آج تک نظر آتے رہتے ہیں۔عبدالحمید جوٹر کی کا معزول بادشاہ تھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ اس کی ایک بات مجھے بہت ہی پسند ہے۔یونان سے جب ترکوں کی جنگ ہوئی تو اُس وقت خطرہ تھا کہ یورپ کی تمام طاقتیں یونان کی مدد کریں گی اور ترکوں کو لازماً شکست ہو جائے گی۔اُس وقت ترکوں نے ایک مجلس منعقد کی جس میں فیصلہ کیا کہ یونان کے حملہ کی اِس اِس رنگ میں مدافعت ہونی چاہئے۔دوسرے دن ایک وزیر گھبرایا ہوا عبدالحمید کے پاس آیا اور کہنے لگا اگر مکمل انتظام ہوتا تو شاید یونان کے حملہ سے ہم بچ جاتے مگر مجھے اس انتظام میں بعض خامیاں نظر آتی ہیں جن کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔اگر ان خامیوں کی موجودگی میں ہم نے جنگ کی تو ہمیں شکست ہو جائے گی بہتر یہی ہے کہ یونان سے صلح کر لی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جب اس وزیر نے عبدالحمید کو یہ بات کہی تو عبدالحمید ہنس کر کہنے لگا اتنے خانے ہم نے پر کئے تھے اور اب کچھ خانے خدا کے لئے چھوڑ دو اور اُس کے فضل پر بھروسہ رکھتے ہوئے جنگ شروع کر دو۔چنانچہ لڑائی ہوئی اور ترکی کو فتح حاصل ہوئی۔تو ایسی مثالیں اسلام کے اس زمانہ میں بھی مل جاتی ہیں جو روحانی لحاظ سے تنزل کا زمانہ ہوتا ہے مگر انفرادی مثالوں سے قومی ترقی نہیں ہوا کرتی۔آج مسلمان ہر جگہ ذلیل ہیں ، مگر آج بھی بمبئی اور کلکتہ میں مسلمانوں میں ایسے کروڑ پتی موجود ہیں جو یورپ کے بڑے بڑے مال دار لوگوں کے مقابلہ میں کھڑے ہو سکتے ہیں لیکن وہ ایک دو ہیں اور یورپ میں ایسے مال دار سینکڑوں ہیں اور ایک دو سینکڑوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ہماری فتح روحانیت کے ذریعہ ہے تو قومی زندگی اور افراد میں سے بعض کی زندگی علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں اور قومی زندگی ایسے ہی زمانہ میں ہوتی ہے جو صحابہ کا زمانہ ہوتا ہے یا تابعین کا یا تبع تابعین کا زمانہ ہوتا ہے۔اس کے بعد جو تغیر ہوتا ہے وہ دُنیوی سامانوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔پس بعد میں آنے والے زمانہ میں دنیوی سامانوں کے ذریعہ فتح ہو گی مگر آج ہماری فتح روحانیت کے ذریعہ ہے۔