خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 374
خطابات شوری جلد دوم ۳۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء داخل ہوتے ہیں، مگر روحانی غلبے اور روحانی شان وشوکت کا وہ زمانہ نہیں ہوتا۔پس ہماری اس قسم کی ترقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے قُرب کے ساتھ مخصوص ہے جب تک اس قریب زمانہ میں ہم دُنیا میں ایک روحانی تغیر پیدا نہ کر دیں گے اور جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لائی ہوئی تعلیم کو ہم اس عرصہ میں دُنیا کے قلوب میں راسخ نہیں کر دیں گے اُس وقت تک ہمیں حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کو بھی ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانہ میں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے عہد کو ہی مبارک سمجھا جاتا تھا۔یہ نہیں ہوتا تھا کہ کہہ دیا جاتا تنبع تبع تابعین، یا تبع تبع تبع تابعین۔دُنیا کے تمام رشتوں میں بھی یہ دستور ہے کہ دادا، بیٹا، پوتا، یا دادا، بیٹا ، پوتا اور پڑپوتا ، اس سے آگے سلسلہ نہیں چلاتے۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ اس قسم کے تعلقات ایک حد تک چل کر کمزور ہو جاتے ہیں۔دس سال کے پوتے یا پڑ پوتے کے دل میں جو محبت دادے یا پر دادے کی ہوتی ہے، اس سے بہت زیادہ محبت اس کے دل میں اپنے ہمسائے کی ہوتی ہے۔تو صحابہ تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ کو ہی ترقی کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔اب ہمارے اوپر بھی تابعین کا زمانہ گزر رہا ہے، کیونکہ اب صحابی کم ہیں، اور تابعین زیادہ اور آج سے چالیس پچاس سال کے بعد تابعی کم ہو جائیں گے، اور تبع تابعین زیادہ ہو جائیں گے۔اور ان تبع تابعین کے بعد جو لوگ آئیں گے وہ کسی اعداد و شمار میں نہیں ہوں گے۔وہ بے شک احمدی کہلائیں گے مگر اُن کا کوئی ایسا مقام نہیں ہو گا کہ ہم اُن کا نام خاص طور پر رکھیں۔ہم خاص طور پر انہی کا نام رکھتے ہیں جنہوں نے رسول کی محبت اُٹھائی ہوئی ہو، یا خاص طور پر ہم اُن کا نام رکھتے ہیں جنہوں نے صحابہ کی صحبت اُٹھائی ہو۔ان میں سے ایک گروہ کو ہم صحابہ کہتے ہیں تو دوسرے کو تابعین جن کا قرآن کریم میں بھی والّذينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ میں ذکر آتا ہے۔گویا اصل گروہ صحابہ اور تابعین کا ہی ہے لیکن اس کے بعد اعزازی طور پر ان لوگوں کا بھی نام رکھ دیا جاتا ہے جنہوں نے تابعین کی صحبت اُٹھائی اور اُنہیں تبع تابعین کہہ دیا جاتا ہے۔مگر بہر حال اس سلسلہ کو ہم لمبا نہیں چلاتے اور یہ نہیں کرتے کہ پانچ پانچ ، چھ چھ پشت تک لوگوں کے نام رکھتے چلے جائیں، بلکہ تین تک تو ہم نام رکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ